73ءکا اصل آئین بحال ہوگا ۔۔ جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنے والا کام نہیں کروں گا : زرداری

ـ 10 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size
73ءکا اصل آئین بحال ہوگا ۔۔ جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنے والا کام نہیں کروں گا : زرداری

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ/ ریڈیو مانیٹرنگ/ ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اس ماہ کے آخر تک آئینی اصلاحات کے پیکج کو حتمی شکل دے دی جائیگی‘17ویں ترمیم کا خاتمہ ہو گا اور اتفاق رائے سے 1973ءکا آئین اپنی اصلی شکل میں بحال کر دیا جائیگا۔ توقع ہے کہ رضا ربانی کی زیرصدارت آئینی کمیٹی اتفاق رائے سے ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کرونگا جس سے جمہوریت یا جمہوری نظام کو خطرہ درپیش ہو۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کوئی کام آسان نہیں جس نے اُسے آسان سمجھا اُسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا‘ کچھ مخالف فورسز آج بھی بے نظیر کی قبر سے لڑ رہی ہیں‘ ظلم کرنا نہیں ظلم سہنا بہادری ہے۔ پریس کی آزادی ہمارے ہی خلاف استعمال کی گئی ہے‘ بھارت نے اپنا بجٹ 24فیصد بڑھا دیا میڈیا اسے بھی اجاگر کرے‘ بے نظیر کے قاتلوں کو جاننے کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت مخالف ذہنیت کو جانتا تھا۔ وہ ایوان صدر میں اے پی این ایس ایوارڈ کی تقسیم تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں اے پی این ایس کے ارکان‘ صحافیوں‘ دانشوروں‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ‘ وفاقی وزرائ‘ ارکان پارلیمنٹ اور وزارت اطلاعات و نشریات کے اہلکاروں نے شرکت کی۔ صدر نے کہاکہ آئین کو اس کی اصلی شکل میں بحال کریں گے اور قوم کو پتہ چل جائے گا کہ آئین کی بحالی کا دعویٰ کون کرتا رہا اور آئین بحال کس نے کیا۔ صدر نے کہا کہ بھٹو ازم اور جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ صدر نے کہا کہ سب نے خود پارلیمنٹ سے استدعا کی تھی کہ وہ صدر کے اختیارات کم کرنے اور پارلیمنٹ کو با اختیار بنانے کے لئے ترامیم لائیں‘ میں نے خود اپنے طور پر ایٹمی کمان اینڈ کنٹرول کے اختیارات وزیراعظم کو منتقل کئے‘ صدر نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے 1988 ءمیں بےنظیر بھٹو کے پہلے دور میں اخبارات کے نیوز پرنٹ پر پابندیاں ختم کیں اس سے پہلے وزارت اطلاعات کا ایک سیکشن آفیسر نیوز پرنٹ کو کنٹرول کرتا تھا صدر نے کہا کہ میڈیا نے پاکستان میں جمہوریت کے لئے بہت جدوجہد کی ہے‘ صحافیوں نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ صحافیوں نے مجھے ایک عرصے تک ہدف تنقید بنائے رکھا اور یہ تاثر بھی دیا کہ حکومت کی ساری خرابی میری وجہ سے ہے‘ آجکل کچھ لوگوں کا کاروبار مجھ پر تنقید سے چل رہا ہے۔ پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جس نے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے ہم نے میڈیا کو آزادی دی لیکن ہمارے ہی خلاف اخبارات میں اشتہارات چھاپے گئے‘ صدر نے کہا کہ میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے میڈیا کو آزاد ہونا چاہئے کیونکہ میرے خیال میں میڈیا آزاد ہوگا تو وہ ہمیں اور جمہوریت کو بچا سکے گا‘ صدر نے کہا کہ 1988 ءمیں جب ہماری حکومت تھی تو یہ کہا جاتا تھا کہ بےنظیر حکومت کو صرف اسلام آباد تک محدود رکھا جائے گا وہ صرف اسلام آباد کی وزیراعظم ہوں گی‘ لیکن بےنظیر بھٹو نے اپنی ذہانت کے باعث ثابت کیا کہ وہ پوری قوم کی لیڈر اور وزیراعظم ہیں‘ ہم بےنظیر بھٹو شہید کے سیاسی فلسفہ مفاہمت کے تحت چل رہے ہیں صدر نے کہا کہ بہت جلد اقوام متحدہ کمشن کی طرف سے بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات جلد سامنے آ جائیں گی‘ جب میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے معلوم ہے کہ بی بی کا قاتل کون ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے بی بی کو قتل کیا بلکہ میری مراد یہ ہوتی ہے کہ میں اس مائنڈ سیٹ یا سوچ کو جانتا ہوں جس کے تحت بےنظیر کو شہید کیا گیا یہ سوچ کبھی ضیاءاور کبھی مشرف کو پاکستان پر مسلط کر دیتی ہے صدر نے کہا کہ موجودہ دور میڈیا کا دور ہے جس میں ہمارا بھی کردار ہے آج میڈیا اور افتخار جسٹس کا دور ہے جس سے ایک گھر لوگوں کو انفارمیشن مل رہی ہے اور دوسرے ہمارے کئی صحافی بھائیوں اور بہنوں کو روزگارکے مواقع بھی ملے ہیں‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میرے فیصلوں کو اے پی این ایس کے صدر نے سراہا ہے یہ فیصلے قومی مفاد میں کئے گئے ہیں جن لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں 38 فیصد اضافہ کیا ہے جو غور طلب بات ہے صدر نے توقع ظاہر کی کہ اگلے سال بھی اے پی این ایس ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب ایوان صدر میں ہوگی اور میں اس کا میزبان ہوں گا‘ صدر نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کا معاملہ طے کرنے کے لئے اے پی این ایس کی کمیٹی بنائی جائے۔ قبل ازیں اے پی این ایس کے صدر مجیب الرحمان شامی نے خطبہ استقبالیہ میں صدر زرداری کو جمہوری صدر کہا کہ جناب صدر آپ رات کے اندھیرے ایوان صدر پر شب خون مار کر قابض نہیں ہوئے بلکہ دن کی روشنی میں جمہوری طور پر منتخب ہوئے‘ مجیب الرحمان شامی نے ماضی کے فوجی صدر پر بالواسطہ نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں شب زادے قرار دیا اور کہا کہ ان کے اگر شجرہ پر نظر ڈالی جائے تو وہ منہ چھپاتے پھریں گے‘ گزشتہ عشرہ میں جو صاحب یہاں براجمان تھے انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق آئین میں کانٹ چھانٹ کی ‘ مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے جمہوریت آئین اور عدلیہ کی بالادستی کے لئے اہم کردار ادا کیا‘ ایوان صدر اور اے پی این ایس حدود آرڈیننس کے تحت ایک دوسرے کی حدوں میں داخل ہو گئے ہیں لیکن ان کے درمیان تصادم کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ الگ الگ رہ کر اپنے کام بخوبی انجام دے سکتے ہیں‘ مجیب الرحمان شامی نے صدر سے مطالبہ کیا کہ اخبارات کے اشتہارات کے ریٹس 100 فیصد بڑھائے جائیں 90 کروڑ کی جو رقم حکومت نے اخبارات کے واجبات کی ادائیگی کے لئے منظور کی ہے اس کی ادائیگی میں رکاوٹیں دور کی جائیں ،پریس کونسل جلد قائم کی جائے اس کے لئے اے پی این ایس اور سی پی این ای دونوں نے اپنے نمائندے نامزد کر دیئے ہیں الیکٹرانک میڈیا کو پریس کونسل کے دائرے میں لایا جائے۔صدر زرداری نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کا پیکج مارچ کے آخر تک تیار کیا جائیگا‘ میری تقریر کے حوالے سے میڈیا پر کچھ خبریں غلط فہمی کا نتیجہ ہیں‘ منگل کو یہاں ترجمان ایوان صدر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اے پی این ایس کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہاکہ میڈیا پر میری تقریر کو غلط فہمی کے انداز میں لیا گیا اور میڈیا نے غلط اندازہ لگایا ہے‘ صدر زرداری نے کہاکہ آئینی اصلاحاتی کمیٹی اپنا کام رواں ماہ میں مکمل کرے گی اور کمیٹی اپنی سفارشات کو مارچ میں حتمی شکل دیکر آئینی اصلاحاتی پیکج تیار کر لیا جائیگا۔سرحد کے پارلیمانی وفد سے ملاقات میں صدر زرداری نے کہا کہ آپریشن کے متاثرین کی امداد کی فراہمی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جلد کامیابی سے مکمل کر لیں گے۔ سرحد میں ترقیاتی منصوبوں کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ وفد میں وفاقی وزیر سینیٹر وقار احمد خان، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ، سردار علی خان اور پرویز ملک سمیت دیگر ارکان شامل تھے ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران صدر زرداری نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث سرحد کی عوام کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری‘ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں حکومت کے شانہ بشانہ ساتھ رہے۔ سرحد میں ترقیاتی منصوبوں کی بر وقت تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے گا‘متاثرین آپریشن کی بحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائینگے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران سرحد کے پارلیمانی وفد نے صدر کو سرحد کی عوام کو درپیش مختلف مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions