تازہ ترین:

حکومت نے ابھی تک متاثرین کی آبادکاری کیلئے جامع پالیسی مرتب نہیں کی : سینٹ میں بحث

ـ 10 جون ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نامہ نگار+ لیڈی رپورٹر+ ایجنسیاں) ارکان سینٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ سوات اور مالاکنڈ میں بڑی تعداد میں اسلحے کی موجودگی کی تحقیقات کرائی جائیں کہ اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ کب اور کیسے اس علاقے میں پہنچا‘ منگل کے روز سینٹ کے اجلاس میں آپریشن کے حوالے سے جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ متاثرین کی آباد کاری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے حکومت نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں کی۔ سینیٹر عبدالخالق پیرزادہ نے کہا کہ طالبان کا جہاد کا طریقہ بالکل درست نہیں پہلے وہ قرآن کا مطالعہ کریں پھر شریعت کی بات کریں۔ سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں متاثرہ علاقوں میں الگ الگ جانے کے بجائے اکٹھے ہو کر جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کو انہیں وظیفہ خور نہ بنایا جائے‘ امریکہ سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں اگر پھر بھی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ امریکہ کے مفادات کو تحفظ دیئے بغیر ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو ملک کو غیر مستحکم کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہئے تھا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مہرین انور راجہ نے کہا ہے کہ شرعی نظام عدل ریگولیشن کو فاٹا تک توسیع دینے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے۔ سینیٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ ارکان کے سوالات اہم ہوتے ہیں مگر وفاقی وزراء ایوان میں موجود نہیں ہوتے ہیں جس پر چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان نیئر بخاری کو ہدایت کی کہ وہ اجلاس میں تمام وزراء کی حاضری یقینی بنائی جائے۔ وفاقی وزیر سماجی بہبود ثمینہ خالد گھرکی نے ایوان بالا کو آگاہ کیا کہ ملک بھر میں نیشنل کونسل برائے بحالی معذور افراد کے تحت 4ہزار 209مرد‘ ایک ہزار 222خواتین اور ایک ہزار 538معذور بچوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے‘ تمام محکموں کو مختص کوٹہ پر معذور افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے چاہئیں۔ وزیر مملکت امتیاز صفدر وڑائچ نے سینٹ کو بتایا کہ ملک میں اس وقت این ایچ اے کے 55ترقیاتی منصوبے زیرتکمیل ہیں‘ کل سڑکوں کا 35فیصد بجٹ بلوچستان میں خرچ کیا جا رہا ہے اور مالی سال کے دوران 10منصوبے مکمل کر لئے جائیں گے آئندہ مالی سال کے دوران سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیلئے 86ارب روپے مختص کئے جائیں‘ لواری ٹنل پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ ہائوس میں سی ڈی اے‘ آئیسکو اور ضلعی انتظامیہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینٹ میں قائد ایوان نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ حکومت عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں تمام سرکاری اداروں اور وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions