تازہ ترین:

17 ویں ترمیم‘ 58 ٹو بی کے خاتمہ سمیت آئینی اصلاحات میثاق جمہوریت کی روشنی میں ہوں گی : زرداری

ـ 7 جولائی ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی + ریڈیو نیوز + مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی دوسری سیاسی قوتوں کی مشاورت سے آئین سے تمام غیر جمہوری شقیں ختم کر دے گی اور اس استبدادی نظام کو تبدیل کر دیا جائے گا جس سے ملک میں دہشت گردی انتہا پسندی اور آمریت کو فروغ حاصل ہو اہے‘ جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1991ء کے معاہدے کے مطابق حل کر لیا جائے گا۔ وہ پیر کو پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم سمیت سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی جبکہ شریک چیئرمین اور صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئیں۔ صدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی آئین کے جمہوری بنانے کے اپنے وعدے کو پورا کرے گی، کچھ لوگوں کا کوئی دوسرا ایجنڈا ہوسکتا ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری اصولوں کے بارے میں پرعزم ہے اور یہ اپنے وعدے پورے کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ 17 ویں آئینی ترمیم اور 58 ٹو بی کو ختم کرنے اور میثاق جمہوریت کی روشنی میں آئین میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا آئین کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل بھی جلد ہو جائے گی۔ صدارتی ترجمان فرحت اﷲ بابر نے کہا ہے کہ گذشتہ دس ماہ کے دوران ایوان صدر میں ہونے والا سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا یہ پانچواں اجلاس تھا جو کہ پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور مجوزہ آئینی ترامیم کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس میں تفصیلی غور کے بعد کئی قرارداد منظور کی گئیں اور پارٹی نے عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم کرنے کے ساتھ ساتھ آئین میں اصلاحات لانے اورمیثاق جمہوریت کے تحت اسے جمہوری ، وفاقی اور پارلیمانی بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس میں منظور ہونے والی ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان کو باہر سے سنگین اندرونی خطرے کا سامنا ہے اور قرارداد میں ملک کو درپیش سیکورٹی کے اندرونی خطرات کو فوری دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے آصف زرداری اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے قومی مفاہمت کی پالیسی پر عمل جاری رکھنے،سترویں ترمیم اور 58 ٹو بی کے خاتمے،میثاق جمہوریت کے تحت آئین میں اصلاحات لانے ،عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی جلد سے جلد گھروں کو واپسی کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions