مظفر آباد (نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ سیل + آن لائن) پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کشمیری پاکستان کی قوم اور حکومت کے لئے ایک خاندان کا درجہ رکھتے ہیں‘ یہ ہمارے وجود بھی ہیں اور پاکستان کی شہ رگ بھی ہیں‘ ان کی آزادی کے لئے سوچ اور ارادوں کی جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا‘ دنیا کو مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی دکھانا ہو گی‘ پائیدار قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے‘ وہ وقت قریب آ رہا ہے جب دنیا تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے سرجوڑ کر بیٹھے گی اور فتح انشاءاللہ کشمیریوں کی ہی ہو گی۔ ذوالفقار علی بھٹو‘ محترمہ بےنظیر بھٹو نے کشمیریوں کو تنہا چھوڑا تھا اور نہ ہم تنہا چھوڑیں گے‘ ان کی اخلاقی‘ سیاسی اور سفارتی حمایت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دونوں شہدا کی پالیسی کا تسلسل ہم بحال رکھیں گے‘ ہم اور ہماری اولاد کشمیریوں کے لئے محبت اور پالیسیوں کی وارث ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم حق خودارادیت کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت سپیکر شاہ غلام قادر نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان کشمیر اور پاکستان کا رشتہ دائمی ہے اور کشمیریوں نے قیام پاکستان سے قبل اپنی قسمت پاکستان کے ساتھ منسلک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو شہید نے ہزار سال تک جنگ کرنے کا جو اعلان کیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ جب تک کشمیریوں کو آزادی مل نہیں جاتی نسل در نسل کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھی جائے گی‘ سوچ اور ارادوں کی جنگ ہم لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جیلوں میں امتحان اور جمہوریت کے لئے قید کاٹی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا‘ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی وصیت میں تحریر کیا کہ پاکستان اور کشمیریوں کے مفادات میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ صدر پاکستان نے کہا کہ ہم اپنی جانوں کا نذرانہ دینے سے گریز نہیں کریں گے مگر پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے مفادات پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے برابری کی سطح پر مسئلہ کشمیر پربات چیت کی جاتی ہے اور کشمیریوں کی رائے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظلم‘ جبر اور طاقت کا استعمال کر کے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا مگر کشمیریوں نے کشمیر بنے گا پاکستان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کا ہم اسی طرح خیال رکھیں گے جس طرح شفیق ماں باپ اپنی اولاد کا رکھتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں حکومتوں کی تبدیلی ان کا اندرونی معاملہ ہے ہمارا کام مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا اور خطہ کی تعمیر و ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان آزاد کشمیر حکومت کے بجٹ پر کوئی کٹ نہیں لگائے گی۔ انہوں نے ممبران اسمبلی کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 48 کروڑ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے جنگلات کی کٹائی پر پابندی عائد کرنے کے لئے قرارداد منظور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات کی کٹائی اور فروخت سے ہونے والی آمدن حکومت پاکستان پوری کرے گی۔ انہوں نے میرپور میں ڈرائی پورٹ‘ کوٹلی میں کمپیوٹر کالج‘ آزاد کشمیر میں میڈیکل کالج‘ انجینئرنگ کالجوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے میڈیکل کالجوں و انجینئرنگ کالجوں میں کشمیری طلبہ و طالبات کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے گا‘ واٹر ہیڈ چارجز کے مطالبہ کا جائزہ لیا جائے گا‘ سیاحت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی‘ تجاویز کے جائزہ کے لئے کمیٹی کام کرے گی۔ انہوں نے پاکستان کھپے اور کشمیر کھپے کا نعرہ لگایا۔ بی بی ڈاٹ کام کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اس خطے کا امن تنازعہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا اگر دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف ہے تو پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کو کشمیر کے مسئلے پر بھی ہم سے بات کرنا ہو گی تب ہی اس خطے میں امن آ سکتا ہے۔ علاقائی امن کو کشمیر کے امن سے جدا نہیں کر سکتے۔ صدر زردری نے کہا کہ ہم نے بھارت اور امریکہ کی دوستی پر کبھی اعتراض نہیں کیا ہے اور یہ کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے۔ ساتھ میں انوہں نے بھارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ بھی اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ آمروں نے ہمیشہ (بھارت کو) خوش کرنے کی پالیسی اپنائی لیکن ہم بھارت کے ساتھ مساوی حیثیت میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور اس میں کشمیری عوام کے حقوق ضروی شامل ہوں گے۔ ریڈیو نیوز کے مطابق صدر زرداری نے کہا کہ ہم نے آزادی سے قبل کشمیر کی جدوجہد شروع کی تھی اور پاکستان حاصل کیا اب کشمیر بھی حاصل کریں گے۔ آن لائن کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اس کو علاقائی امن کے ساتھ لنک کرنا ہو گا‘ کسی ایک ملک کو امن عمل سے باہر رکھ کر خطہ کے اندر پائےدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بھارت کو مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات شروع کرنا ہوں گے۔ انہوں نے حریت قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان خطہ کے اندر پائےدار امن کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا اور اس سلسلہ میں چین کو بھی اس میں شامل کرنا ہو گا۔ صدر نے یہاں ایک تقریب کے دوران یوم عاشور کے موقع پر امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاںبحق ہونے والے 8 افراد کے لواحقین میں فی کس 5 لاکھ روپے امدادی چیک تقسیم کئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہدا کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے ورکروں کے ساتھ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 82ویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔
Post New Comment