گوجرانوالہ + لاہور (نمائندہ خصوصی + نامہ نگاران + خبرنگار خصوصی) گوجرانوالہ‘ سرگودھا اور لودھراں میں قومی اسمبلی کے 3 حلقوں میں گزشتہ روز ضمنی الیکشن ہوا غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 68 سرگودھا میں مسلم لیگ ن‘ این اے 100 گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی جبکہ این اے 155 لودھراں میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اختر کانجو جیت گئے۔ این اے 68 سرگودھا میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شفقت حیات نے پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار میاں مظہر قریشی‘ گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی کے تصدق مسعود نے مسلم لیگ ن کے اظہر قیوم ناہرہ جبکہ این اے 155 لودھراں میں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اختر کانجو نے پیپلز پارٹی کے حیات اللہ ترین کو ہرا دیا۔ این اے 100 گوجرانوالہ میں رات گئے ملنے والے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار تصدق مسعود نے 71 جبکہ مسلم لیگ ن کے اظہر قیوم ناہرہ نے 66000 ووٹ لئے۔ رات گئے بعض پولنگ سٹیشنوں کے نتائج میں تاخیر پر گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے پریذائیڈنگ افسر کی ڈنڈوں‘ گھونسوں اور لاتوں سے پٹائی کر دی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پولیس سے بھی ہاتھا پائی ہوئی اور کارکنوں نے کئی بیلٹ بکس اٹھا کر سڑک پر پھینک دئیے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ دھاندلی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کئی گھنٹے پریذائیڈنگ افسر کے دفتر کا گھیراو کئے رکھا۔ عام انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے مدثر قیوم ناہرہ کامیاب ہوئے تھے ان کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن نے ان کے بھائی اظہر قیوم ناہرہ کو ٹکٹ دیا۔ اےن اے 100 مےں 3 لاکھ 29 ہزار 285 ووٹرز کے لئے 226 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے۔ اس حلقے میں ضمنی انتخابات کے دوران پےپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے دوران ہاتھا پائی اور تصادم کے نتےجہ مےں 13 سے زائد افراد زخمی اور جعلی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پولنگ اےجنٹ سمےت 8 افراد کو گرفتار کر لےا گےا ہے جبکہ دونوں جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے اےک دوسرے پر دھاندلی کے شدےد الزامات عائد کئے ہےں۔ پولنگ سٹےشن گورنمنٹ ہائی سکول نوشہرہ ورکاں مےں پاکستان پےپلز پارٹی کی اےم پی اے عظمیٰ بخاری کی (ن) لےگ کی خواتےن اور امےدوار اظہر قےوم ناہرا کے ساتھ شدےد تلخ کلامی اور گالی گلوچ ہو گئی۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے اےم پی اے محمد سعےد مغل، سابق اےم پی اے عبدالرﺅف مغل بھی موقع پر پہنچ گئے۔ بعدازاں اظہر قےوم ناہرہ کی پےپلز پارٹی کی اےم پی اے نےلم اعوان کے ساتھ بھی گالم گلوچ ہو گئی۔ پولےس نے اےک پولنگ سٹےشن پر شمشاد سمےت دو افراد کو جعلی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے گرفتار کر لےا گےا ہے۔ اسی طرح نواحی گاﺅں جاگووال مےں جعلی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اےک شخص کو پولےس نے گرفتار کر لےا۔ گورنمنٹ ہائی سکول نوشہرہ ورکاں مےں لڑائی جھگڑا، ہاتھا پائی اور ڈنڈے سوٹے مارنے پر مسلم لیگ (ن) کے اےجنٹ شےخ مجےد، شےخ خلےق، سعےد سدھو اور اقبال صدےق سدھو کو پولےس نے حراست مےں لے لےا ہے۔ نواحی گاﺅں ودھاواں مےں مسلم لیگ (ن) کی اےم پی اے نسےم خواجہ نے پےپلز پارٹی کی خواتےن کو جعلی ووٹ کاسٹ کرنے سے منع کےا تو پےپلز پارٹی کی خواتےن نے اےم پی اے کو ہراساں کےا اور سنگےن نتائج کی دھمکےاں دےں جس پر ڈی آئی جی گوجرانوالہ ذوالفقار احمد چےمہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے اےم پی اے کو خواتےن کے نرغے سے بازےاب کرا لےا۔ اےن اے 68 میں ضمنی الےکشن کے غےر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لےگ (ن) کے امےدوار سردار شفقت حےات بلوچ انتخابی نشان شےر 90253 ووٹ کر پہلے اور پی پی پی کے حمایت یافتہ آزاد امےدوار مےاں مظہر احمد قرےشی انتخابی نشان تانگہ 56747 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے‘ سکندر حےات بھٹی انتخابی نشان رےلوے انجن تےسرے اور سجاد حےسن شےرازی انتخابی نشان بندوق چوتھے نمبر پر رہے۔ اس حلقہ سے مسلم لےگ (ن) کے گذشتہ عام انتخابات مےں کامےاب ممبر قومی اسمبلی سےد جاوےد حسین شاہ کو جعلی ڈگری کےس مےں نا اہل قرار دےا گےا تھا جس کے بعد الےکشن کمشن نے ےہاں ضمنی الےکشن کے لئے شیڈول کا اعلان کےا تھا‘ ضمنی الےکشن کے قومی اسمبلی کے حلقہ اےن اے 68 سرگودھا پانچ مےں 306 پولنگ سٹےشن قائم کر کئے گئے تھے، حلقہ مےں رجسٹرڈ ووٹررز کی کل تعداد تےن لاکھ 83 ہزار 743 ہے جن مےں سے دو لاکھ پانچ ہزار 562 مرد اور اےک لاکھ 78 ہزار 183 خواتےن ووٹرز شامل ہےں۔ قبل ازیں مچھر کھادی کے پولنگ سٹیشن پر جھگڑا ہوا‘ معمولی تلخ کلامی پر پیپلز پارٹی کے جیالوں نے خاتون ایم پی اے ادیبہ‘ لیگی رہنما گلشن شہزادی اور بلقیس پر تھپڑوں کی بارش کر دی جس پر انتظامیہ کو پولنگ روکنا پڑی۔ شفقت حیات بلوچ کی کامیابی کے بعد علاقہ بھر میں جشن کا سماں رہا اور متوالے آتشبازی کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کرتے رہے۔ این اے 155 لودھراں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اختر کانجو 78978 ووٹ لے کر جیتے‘ پیپلز پارٹی کے حیات اللہ ترین نے 68967 ووٹ لئے۔ یہاں 2 لاکھ 72 ہزار 48 ووٹرز کے لئے 312 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے تھے، دنیاپور کے چک نمبر 233 مےں پولنگ سٹیشن کے باہر آزاد امیدوار اختر خان کانجو کے حامیوں کی ہوائی فائرنگ کی وجہ سے دس منٹ کےلئے پولنگ کو روکا گیا جس کے بعد دوبارہ پولنگ کا عمل شروع کر دیا گیا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق جیتنے والے اختر خان کانجو نے کہا ہے کہ یہ الیکشن وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی اور اختر خان کانجو کے درمیان تھا۔ میں اپنی جیتی ہوئی سیٹ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف کے قدموں پر نچھاور کرتا ہوں۔ یہ بات انہوں نے مختلف نجی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اختر کانجو نے کہا کہ میں نے اپنے حلقے کی ترقی کے لئے بہت کچھ کرنا ہے‘ میں نے پانچ سال کے ترقیاتی کام دو سال میں مکمل کرنے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ لودھراں کی عوام نے جس محبت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے میرے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ خبر نگار خصوصی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت محمد نوازشریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے سرگودھا اور لودھراں کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کی جیت کو مسلم لیگ (ن) پر عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ پھر عوام نے ثابت کیا ہے کہ ان کے ووٹ قومی مفادات کے تحفظ جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کے مسائل اور مشکلات کے لئے تگ و دو کرنے والی مسلم لیگ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی فتح کے بعد ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہماری کوشش کاوشیں عام آدمی کی حالت زار میں بہتری‘ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ہوں گی اور ہم عوام کی تائید و حمایت کو پاکستان میں ایک ایسے سماجی انقلاب کے لئے بروئے کار لائیں گے جو مقاصد پاکستان کی تکمیل کا باعث بن سکے‘ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے مطابق ہم نے براہ راست ضمنی انتخابات کا حصہ بننے کی بجائے سیلاب اور بارشوں کے متاثرین کی بحالی کے عمل میں حصہ لیا۔ خدا تعالیٰ نیتوں کا حال بہتر جانتا ہے اور خدا کے فضل و کرم اور عوام کی تائید و حمایت سے ہم خدا اور عوام کی عدالت میں سرخرو ہوئے جس پر ہم خدا تعالیٰ اور عوام دونوں کے مشکور ہیں۔
Post New Comment