پشاور (بیورو رپورٹ + مانیٹرنگ ڈیسک + نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں یکساں بلدیاتی نظام ہونا چاہئے‘ حکومتی مدت پوری کرنے کے لئے سیاستدان بھی کردار ادا کریں‘ یہاں پیپلز پارٹی سرحد کی پارلیمانی پارٹی اور غیر ملکی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا فوجی آپریشن دہشت گردی کے خلاف مکمل کامیابی نہیں بلکہ کامیابی کا محض ایک حصہ ہے‘ اصل کامیابی کے لئے لوگوں کے دل و دماغ جیتنے ہوں گے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری ملٹری آپریشن کے بعد فاٹا میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہمارے اصل دشمن دہشت گرد ہیں جب تک دہشت گردی‘ انتہا پسندی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ملک ترقی کر سکتا ہے نہ ہی یہاں سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا آمروں نے قائداعظمؒ کے ساتھیوں کو نکال باہر کیا اور ملکی قیادت انڈر 19 ٹیم کے پاس چلی گئی‘ ہمارا اپوزیشن کے بغیر گذارا نہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں تنقید پر دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں‘ جب قائداعظمؒ کے ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات لگ سکتے ہیں تو ہم پر الزام تراشی کوئی بڑی بات نہیں‘ اکثر ایم این ایز کو صوبائی حکومتوں سے اپنے کام نہ ہونے کی شکایات ہےں‘ انہوں نے کہا دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو کے کام میں سرخرو ہونگے۔ بیورو رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں موثر کارروائی کے بعد حکومت کی عمل داری مستحکم بنا دی گئی ہے اور اب ان علاقوں کی ترقی و استحکام کیلئے تعمیرنو کے کاموں کو جلد سے جلد حتمی شکل دینے کے ساتھ عوام کو ضروری سہولیات کی فراہمی کو بھی ممکن بنانا ہو گا‘ انہوں نے یورپی یونین ایکشن پلان برائے پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس پلان کے نتیجہ میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے کہا دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہمارے اصل دشمن دہشت گرد ہیں جب تک دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ملک ترقی کر سکتا اور نہ ہی یہاں سرمایہ کاری ہو سکتی‘ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت گھمبیر حالات سے گزر رہا ہے ہم نے اس کا جرا¿ت مندی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہو گا‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم کئی محاذوں پر دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہم بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر اپنی منزل پائیں گے‘ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ غریب لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان دیا جائے‘ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس اور وویمن ایمپاورمنٹ کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں غریب خاتون خانہ کو بجلی اور گیس کے بلوں میں خصوصی رعایت دی جائیگی‘ اس موقع پر انہوں نے بےنظیر بھٹو کمپلیکس کے باقی ماندہ تعمیر کے لئے فنڈز کی فراہمی کا بھی اعلان کیا‘ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت ہے اگر پارٹی مضبوط ہو گی تو حکومت بھی مضبوط ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں ڈویژنل کی سطح پر پارٹی کنونشن منعقد کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر پارٹی ورکروں کو جو مسائل درپیش ہیں اس کا ازالہ کیا جا سکے‘ اسی طرح صوبہ سرحد میں ڈویژن کی سطح پر پارٹی اجلاس منعقد کر کے پارٹی کارکنوں کو جلد وزیراعظم ہاﺅس دعوت دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے اختلاف رائے بڑی بات نہیں‘ انہوں نے کہا کہ پارٹی اگر قائم ہے تویہ شہدا کے خون کی وجہ سے ہے 1973ءکا آئین پیپلز پارٹی نے ہی دیا ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ بےنظیر بھٹو شہید نے ہمیشہ مفاہمت کی سیاست کی اور ہم ان کی اسی سوچ پر عمل کرتے ہوئے اس منشور کو آگے بڑھائیں گے‘ انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمت کی سیاست سے این ایف سی ایوارڈ پر چاروں صوبوں کا اتفاق رائے ہماری حکومت کا بڑا کارنامہ ہے‘ انہوں نے کہا کہ بنوں اور ڈی آئی خان کے متاثرین کی مدد کی جائے گی جبکہ چشمہ لیفٹ بنک کےنال اور نیو بس ٹرمینل پر بھی جلد از جلد کام شروع ہو جائے گا۔ اے پی پی کے مطابق یورپی یونین نے پاکستان کے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں کی فوری تعمیر نو میں مدد دینے کےلئے آئندہ دو روز میں 20 ملین یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان کی معیاری مصنوعات کو اپنی منڈیوں میں رسائی دینے سے اتفاق کیا ہے۔
Post New Comment