اسلام آباد (آن لائن + نمائندہ خصوصی) وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ بجلی،گیس اور چینی کے موجودہ بحران کے ذمہ دار ہم نہیں۔ عوام نے ہمیں پانچ سال کےلئے منتخب کیا مگر حساب ڈیڑھ سال میں ہی مانگا جا رہا ہے۔ پانچ سال میں اگر وعدے پورے نہ کئے تو آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔ بجلی کے بحران سے نمٹنے کےلئے رینٹل پاور پلانٹ منگوانے کا فیصلہ کیا تو گالیاں پڑیں۔ دینے والے بھی ڈر گئے اور ہم بھی ڈر گئے جس کے بعد سرمایہ کار بھاگ اور ہم مشکل میں پڑ گئے۔ نئے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں دیں گے۔ اسلام آباد میں دہشت گردی بڑھنے کا سبب قبضہ مافیا ہے۔ اس کے خلاف سی ڈی اے کارروائی کرے۔ سی ڈی اے شہر کی خوبصورتی کو مدنظر رکھ کر ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرے چونکہ اسلام آباد فیڈریشن کی علامت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں سیکٹر D-12 کے الاٹیز کو الاٹمنٹ لیٹر دینے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے الاٹیز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں 21 سال بعد ایک نیا سیکٹر کھولا جا رہا ہے یہ اتفاق ہے کہ اس وقت بھی ہماری حکومت تھی اور آج بھی ہماری حکومت ہے۔ وزیراعظم نے سی ڈی اے کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ نئے سیکٹر کھولنے کے ساتھ ساتھ زیر التوا منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں۔ دارالحکومت کو مثالی شہر ہونا چاہئے مگر اس میں غریبوںکو نظرانداز نہ کیا جائے۔ باہر سے آنے والے لوگوں پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ امن وامان کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ کچی آبادیوں کو بھی بہتر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کا فاطمہ جناح پارک اور زیرو پوائنٹ پر شمسی توانائی کا ایک اچھا منصوبہ ہے جس سے بجلی کی 25 فیصد بچت ہو گی۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نیٹ ورک وسیع کیا جائے اور ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جائیں۔ ملک میں بجلی سب سے بڑا مسئلہ ہے جو کہ پیسے سے نہیں صرف منصوبہ بندی سے حل ہو گا۔ اگر سابقہ حکومتوں نے منصوبہ بندی کی ہوتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ ہم پر بے شک تنقید کی جائے مگر اس بات کو دیکھا جائے کہ ہم اس کے ذمہ دار نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ موجودہ حکومت نے بہت سے منصوبوں پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے جس میں بجلی کے ساتھ ساتھ پانی کے مسئلے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب چینی کا مسئلہ پیدا ہوا تو ہم نے صوبوں کے ساتھ ملکر اس کی قیمت 45 روپے کلو مقرر کی جب مداخلت ہوئی تو اس کی قیمت 70 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کےلئے دس لاکھ ٹن چینی درآمد کرےگی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کےلئے ڈیم بنا رہے ہیں جنہیں مکمل کرنے کےلئے تین سال لگیں گے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں‘ ہم پر یہ الزام نہ لگے کہ ہم نے ملک کو کربلا بنا دیا۔ گیس کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس میں کچھ میرا بھی قصور ہے۔ ملک میں گیس کی پیداوار چار لاکھ مکعب فٹ ہے جبکہ ہم نے ڈیڑھ سال میں اراکین پارلیمنٹ کے مطالبہ پر 10لاکھ مکعب فٹ کے برابر گیس فراہم کرنا شروع کر دی۔ اراکین اپنے علاقوں کے لئے بجلی مانگتے ہیں ہم نے ڈیڑھ سال میں 15 ارب روپے بجلی کی فراہمی کےلئے خرچ کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کچھ اچھے کام کر لئے ہیں مگر کچھ ابھی باقی ہیں، اپنے منشور پر عمل کر کے ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے۔ عوام کو حق ہے کہ وہ ہمارا احتساب کرے‘ ہمیں شکست دیں‘ سیاستدان کے لئے اسمبلی سے باہر ہونا بھی ایک سزا ہے۔ بعدازاں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو زرمبادلہ کے ذخائر 6 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 15 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ ہم نے مشکل فیصلے کر کے معیشت کو درست سمت کی طرف گامزن کر دیا ہے۔ امن و امان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے ہم ان کے صوبوں کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے D-12 کے الاٹمنٹ لیٹر بھی تقسیم کئے۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں متاثرین دہشت گردی کی بحالی کے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا‘ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن مملکت کے طور پر معاشی لحاظ سے بہت نقصانات اٹھائے ہیں‘ عالمی برادری اپنے وعدے پورے کرے تاکہ پاکستان تعمیر نو کے کام کو م¶ثر انداز میں کر سکے‘ انہوں نے کہا کہ صوبوں‘ میڈیا‘ سول سوسائٹی کی حمایت کی بدولت مالاکنڈ آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
Post New Comment