لاہور (انٹرویو: سلمان غنی) برطانوی ہائوس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے گلگت و بلتستان کو دی جانے والی داخلی خودمختاری کو خود آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے طے شدہ اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ کے نتیجہ میں کشمیریوں کے تحفظات اپنی جگہ لیکن مسئلہ کشمیر صرف دبا ہی نہیں بلکہ ڈیمیج ہو کر رہ گیا ہے ہم کشمیر کے حوالہ سے بھارت کو مورد الزام ٹھہراتے رہے کہ وہ یہاں اپنے فیصلے مسلط کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا تمسخر اڑاتا ہے مگر خود ہم نے کیا کیا۔ ایسا نظر آتا ہے کہ صدر زرداری کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ کروا دیا گیا جس سے خود پاکستان اور حکومت کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں لہٰذا آج اتوار کو اسلام آباد میں کشمیری قیادت سیاسی جماعتیں گلگت بلتستان کے مسئلہ پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے صدر زرداری پر اپنے تحفظات واضح کریں گے یہ باتیں انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں نوائے وقت/ دی نیشن کو دئیے جانے والے خصوصی انٹرویو میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ایک بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں اور کسی سیاسی قیادت اور منتخب پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص کی گورنری کیلئے تاریخی حقائق زمینی صورتحال کو پامال کر کے رکھ دیا گیا اور ایسا فیصلہ کروا دیا گیا جس سے خود پاکستان کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ خود ایوان صدر کو بات اب بھی سمجھائی جا سکتی ہے اور غلطی کی تلافی اس صورت میں ممکن ہے کہ اس داخلی خودمختاری کو کشمیر کونسل سے منسلک کیا جائے کسی گورنر کو گورننس کی ذمہ داری دینے کی بجائے ذمہ داری آزاد جموں و کشمیر کے صدر کو سونپی جائے جو مذکورہ علاقوں کیلئے ایک نائب صدر کا تقرر کر کے معاملات چلا سکتے ہیں۔ انہوں نے آزادکشمیر اور اقوام متحدہ کے حوالے سے جسٹس مجید ملک کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نقشہ کے حوالہ سے یہ علاقہ کشمیر کا حصہ ہیں کیونکہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہوتا ہے لہٰذا ان خبروں کو نظر انداز کرتے ہوئے یکدم ایک فیصلہ کر ڈالا گیا اور ایک منتخب حکومت اور منتخب پارلیمنٹ کی موجودگی میں نہ تو سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا کہ کشمیر رہنمائوں کو مطلع کیا گیا اور فوری طور پر انتظامی نوبت بنا کر گورنر کی نامزدگی کر ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد تو یہی ہے جس میں کشمیر کی تمام جماعتیں شریک ہوں گی اور سر جوڑ کر ایسا فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت کو فیصلہ پر نظرثانی پر مجبور کیا جائے اور لائحہ عمل وہی اختیار کریں گے جو پاکستان اور کشمیر کے بہترین مفاد میں ہو گا اور دنیا میں مسئلہ کشمیر پر ہمارے اصولی موقف پر بھی حرف نہ آئے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے زمینی قبضوں اور یہاں اپنی آبادی لا کر بسانے کے عمل کو فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کشمیر پر بھارت اس حکمت عملی پر کارفرما ہے جس پر اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا اور آج دندنا رہا ہے
Post New Comment