اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار + ایجنسیاں + نیٹ نیوز) پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندہ رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند پاکستان کی جمہوری حکومت‘ اداروں اور ملک کے استحکام کے لئے خطرہ ہیں۔ رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ امریکی حکومت پاکستان کی جمہوری حکومت اور اداروں کے استحکام کے لئے پاکستان کی بھرپور مدد کریگی۔ رچرڈ ہالبروک گزشتہ روز ایوان صدر میں صدر زرداری سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ دورہ کا مقصد سوات آپریشن سے متاثر ہونے والے مہاجرین کی مدد اور ان کی ضروریات کا جائزہ لینے سے متعلق ہے۔ امریکی نمائندہ نے کہا کہ میں صدر اوباما کی خصوصی ہدایت پر پاکستان آیا ہوں اور میں نے دورے کے بارے میں براہ راست صدر اوباما کو رپورٹ دینا ہے رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ امریکہ مجموعی طور پر سوات کے متاثرہ افراد کے لئے 300 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد دیگا۔ 110 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کر چکی ہیں جبکہ 22ملین ڈالر کی امداد این جی اوز کے ذریعہ دیدی گئی ہے۔ انتظامیہ نے کانگریس کو درخواست کی ہے کہ 200 ملین ڈالر کی امداد فوری طور پر منظور کی جائے تاکہ پاکستان میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کی امداد کی جائے۔ ہالبروک نے کہا کہ اب تک امریکہ سوات آپریشن کے متاثرین کے لئے سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک ہے اور امریکہ بین الاقوامی برادری سے اپیل کرے گا کہ وہ پاکستان کے لئے امداد فراہم کرے۔ یورپی یونین کے ممالک اور خلیج کے ممالک کو آگے آنا چاہئے۔ رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ حکومت نے پاکستان کی سابق حکومت کے مقابلے میں زیادہ امداد فراہم کی ہے۔ پاکستان کوفوائد دینا ہمارے اور ساری دنیا کے مفاد میں ہے۔ اس سوال پر کہ ان کے خیال میں سوات میں جاری آپریشن کس حد تک کامیاب ہے۔ ہالبروک نے کہا کہ اس بارے میں صدر زرداری جواب دیں گے۔ ابھی اس آپریشن کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ مزید آگے جانا ہے رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ میں کل متاثرین کے کیمپوں میں جاؤں گا میرے ساتھ میرے وفد کے ارکان بھی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کا مسئلہ سب سے زیادہ سنجیدہ اور نازک ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سوات میں دہشت گرد پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کر رہے ہیں ہم نے ہر صورت میں پاکستان کی خود مختاری کا دفاع کرنا ہے۔ ہالبروک کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ میری مرحومہ بیگم نے کہا تھا کہ انتہا پسند اور دہشت گرد پاکستان کا جھنڈا پاکستان سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں ہم ان کی کوشش ناکام بنا دیں گے۔ صدر زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں لوگوں کے دل اور ذہن جیتے ہیں اس لئے یہ جنگ ایک طویل جنگ ہے لیکن ہم دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے عوام کے دل جیتنا ہونگے۔ رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جمہوری حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہماری جنگ انتہا پسندوں کے ساتھ ہے ہم نے جب دل و دماغ میں جاری جنگ جیت لی تو دہشتگردی کیخلاف آدھی جنگ جیت جائیں گے۔ ہم نظریات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں جہاں بھی دہشتگردی کا سامنا ہو گا ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ ہمیں عوام کے دل و دماغ جیتنا ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دہشتگردوں کے خاتمے کے بارے میں واضح نظریات رکھتی تھیں وہ خود دہشتگردی کا شکار ہوئی ہیں۔ اس وقت پورا ملک دہشتگردی کی آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ہالبروک نے کہا کہ امریکہ پاکستانی عوام کیلئے فکر مند ہے اور ہرممکن طریقے سے پاکستان کی مدد کرے گا۔ سوات متاثرین کی مشکلات سے آگاہ ہیں۔ متاثرین کی ہر سطح پر مدد جاری رکھیں گے۔ پاکستانی نژاد لیڈی ڈاکٹر سوات متاثرین کی دیکھ بھال کیلئے امریکہ سے پاکستان آ رہی ہیں۔ میں صدر اوباما کی خاص ہدایت پر پاکستان آیا ہوں ایٹمی معاملات پر عوام میں بات نہیں کرتا‘ صدر اوباما نے کانگریس سے پاکستان کیلئے 20 کروڑ ڈالر اضافی امداد مانگی ہے امید ہے کانگریس اس امداد کی منظوری دیدے گی۔ دوسرے ممالک کو پاکستان کی زیادہ امداد کرنی چاہئے۔ امریکہ پاکستان کیلئے بین الاقوامی امداد کی اپیلیں بھی کرے گا۔ لوگ دہشتگردوں اور انتہا پسندوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں متاثرین نے نقل مکانی کی ہے اور پشتون لوگوں نے اپنی روایتی مہمان نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے بے شمار افراد کو اپنے گھروں میں رکھا ہوا ہے قبائلی علاقوں میں بدامنی کی ذمہ دار القاعدہ ہے۔ حافظ سعید کی رہائی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ امریکہ اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دہشتگرد اب فرار ہو رہے ہیں۔ جمہوری حکومت نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ انشاء اللہ ہم دہشتگردوں کے خلاف کامیاب ہونگے۔ پاک فوج نے سوات میں بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ پورے پاکستان کا متفقہ فیصلہ ہے امریکہ نے 110 ملین ڈالر کی امداد دی ہے امریکی امداد کے شکرگزار ہیں۔
اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار + اے پی پی + ریڈیو نیوز) پاکستان و افغانستان کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف پاکستان نے وہی کچھ کیا جو اسے کرنا چاہئے تھا۔ متاثرین مالاکنڈ کیلئے 110 ملین ڈالر کی امداد کافی نہیں مزید امداد دیں گے۔ پاکستان کو آئندہ چند روز میں چار ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر فراہم کئے جائیں گے۔ امریکہ نے پاک فوج کو اندھیرے میں دیکھنے والی دوربینیں فراہم کر دیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان 17ویں ترمیم پر بیان بازی پر کوئی تشویش نہیں۔ 17ویں ترمیم کے خاتمہ پر صدر آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف میں اتفاق ہو چکا ہے۔ طیارے میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہالبروک نے کہا کہ سوات‘ بونیر اور دیگر علاقوں کے شدت پسند محمد علی جناحؒ کے پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسلامی دنیا کے ممالک نے متاثرین مالاکنڈ کی بھرپور امداد نہیں کی۔ او آئی سی کو متاثرین کی مالی مدد کرنی چاہئے تھی۔ تاہم امریکہ پاکستان کو اس مشکل کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گا‘ حافظ سعید کی رہائی کی وجوہات سے متعلق پاکستانی حکام سے بات کروں گا۔ انہوں نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ صدر اوباما نے پاکستان کو ہیلی کاپٹروں کی جلد فراہمی میں ذاتی دلچسپی لی ہے توقع ہے کہ پاکستان کو بہت جلد چار ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر مل جائیں گے‘ امریکہ نے اب تک کافی معاونت کی ہے تاہم ہمارا خیال ہے کہ دیگر ممالک کو ہمارا ساتھ دینا چاہئے‘ اسلامی ممالک پاکستان کو درپیش چیلنج سے نمٹنے میں مدد کیلئے بہت زیادہ معاونت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی عملداری کو براہ راست چیلنج کرنے والوں کو مناسب جواب دیا ہے۔ سوات، بونیر اور فاٹا میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے بہت خطرناک دہشت گرد ہیں ان کا واضح مقصد جمہوریت کو تباہ کرنا ہے جو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان قائم کرتے ہوئے تشکیل دی تھی۔ امریکہ رات کو دیکھنے والے آلات سمیت پاکستان کو سکیورٹی سازو سامان مہیا کرے گا۔ اوباما پاکستان کے لئے خصوصی لگائو رکھتے ہیں کیونکہ ان کی والدہ نے وہاں فرائض انجام دئیے ہیں اور وہ خود بھی پاکستان جا چکے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان رابرٹ وڈ نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل صورتحال سے گذر رہا ہے اسے دہشت گردی کے خطرے اور مشکل اقتصادی صورتحال کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد کا چیلنج درپیش ہے تمام ممالک پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کریں۔ صدر اوباما اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستانی حکام سے بات چیت کی ہے۔ پاکستان نے طالبان کے خلاف لڑائی کا اہم سٹرٹیجک فیصلہ کیا ہے‘ ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کس قسم کی مدد دی جا سکتی ہے اور ہم ہرممکن مدد جاری رکھیں گے۔ بے گھر افراد کی حالت زار پر ہمیں بے حد تشویش ہے ہم ان کی بحالی کیلئے حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں‘ سکیورٹی فورسز اور طالبان کی لڑائی میں عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنیوالوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔ طالبان سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی بنانے کی بھی ضرورت ہے۔
Post New Comment