واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایک منظم نیٹ ورک میرے مسلمان ہونے کی افواہیں پھیلا رہا ہے۔ امریکی ٹی وی این بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنے عقیدے کے بارے میں ایک حالیہ سروے پر ہرگز پریشان نہیں جس میں 20 فیصد امریکیوں نے مجھے مسلمان قرار دیا تھا۔ صدر اوباما نے کہا کہ حقیقت تو حقیقت ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں عیسائی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ میں امریکہ میں پیدا تو نہیں ہوا لیکن میرا زیادہ وقت یہی گ زرا ہے۔ میں اپنے بارے میں افواہوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتا۔ زیرو گرا¶نڈ کے قریب مسجد سمیت اسلامی سنٹر کی تعمیر کی حمایت پر اپنے م¶قف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسا کر کے کسی مخصوص منصوبے کی حمایت نہیں کی بلکہ امریکی آئین کی پاسداری کی ہے۔ آئین مذہبی آزادی کی اجازت دیتا ہے اور مسلمانوں کو اسلامی سنٹر کی تعمیر کا حق حاصل ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ اس وقت امریکہ کو دہشت گردی اور اقتصادی چیلنجوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
Post New Comment