واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینٹیا نے کہا ہے کہ افغانستان میں خود کش دھماکہ کر کے خفیہ ایجنسی کے 7 اہلکاروںکو ہلاک کرنے والا اردنی باشندہ حمام الخلیل سی آئی اے کا ایجنٹ تھا۔ اس سے القاعدہ کے اہم رہنما ایمن الظواہری کو قتل کرنے کے منصوبے پر بات کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ اہلکار اس کی نشاندہی لینے ہی والے تھے کہ اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پینٹیا نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ حمام الخلیل بلاوی کو سی آئی اے نے القاعدہ کے خلاف لڑائی کے لئے تیار کیا تھا۔ پینٹا کے مطابق سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے کے باوجود ہم نے اس شخص سے لاحق خطرے کے پہلو کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا تھا۔ ہمارے سکیورٹی افیسر اس کی تلاشی لینے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ اس نے دھماکہ کر دیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار مارے گئے جبکہ اردن کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والا انٹیلی جینس کا اہم عہدیدار بھی ہلاک ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق 6 زخمیوں میں افغانستان میں سی آئی اے کے نائب سربراہ بھی شامل ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سی آئی اے اس بات کا منصوبہ بنا رہی تھی کہ خود کش بمبار سے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو قتل کرنے کے طریقوں پر بات کی جائے۔ اس اردنی باشندے کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ سی آئی اے اور اردن کے علاوہ القاعدہ کا بھی ایجنٹ تھا۔
Post New Comment