واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" کا کہنا ہے کہ غزہ پر گذشتہ برس حملے کے دوران جنگی جرائم سے متعلق الزامات کے بارے میں تل ابیب نے "غیر جانبدار اور گہری"چھان بین نہیں کی۔ مڈل ایسٹ اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے نیویارک سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیل نے غزہ جنگ کے دوران اپنی فوج کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے بارے میں شکایات سے متعلق غیر جانبدار اور تفصیلی تفتیش کے لئے کبھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔" تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ چار فروری کو ہمارے چندنمائندوں نے اسرائیلی فوج کے قانونی ماہرین سے ملاقات کی۔ اس دوران تنظیم کے عہدیداروں کو معلوم ہوا کہ اسرائیلی فوج نے داخلی طور جنگی جرائم کے الزامات کے بارے میں غیر جانبدار اور تفصیلی چھان بین نہیں کی۔ بیان کے مطابق اسرائیل کی اس سیاسی اور فوجی قیادت کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا کہ جن کے فیصلے کے نتیجے میں عالمی جنگی قوانین کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایک رکن جو سٹارک کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت ہے اس بات کی تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں سویلین ہلاکتوں کے بارے میں آزادانہ تحقیق کی جاتی تاکہ قانون کی خلاف ورزی کا باعث بننے والوں کو گرفتار کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوجی کی داخلی تفتیش میں اس بات کا تعین زیادہ کیا گیا ہے کہ کن فوجیوں نے سپاہ کے "دشمن" پر حملے میں پس و پیش سے کام لیا۔ اس تفتیش میں صہیونی فوجیوں کی جانب سے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی تفتیش کا کہیں دور دور تک ذکر نہیں ملتا۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں انیس ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے کہ جہاں اسرائیلی فوجیوں نے عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
Post New Comment