امریکہ میں بلیک واٹر کیخلاف عراقی حکام کو رشوت دینے کی تحقیقات جاری

ـ 1 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکہ میں بلیک واٹر کیخلاف اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے کہ 17 عراقی شہریوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کے بعد تنظیم نے اس واقعہ کی پردہ پوشی اور اسے عراق میں سرگرمیاں جاری رکھنے کی توقع پر عراقی حکام کو رشوت دی تھی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونیوالی سابق عہدیداروں کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ انصاف کے فراڈ سیکشن نے گزشتہ سال کے آخر میں اس بات کا تعین کرنے کیلئے تحقیقات شروع کی تھی کہ آیا بلیک واٹر کے ملازمین نے اس وفاقی قانون کی خلا فورزی کی ہے جس کے تحت امریکی کارپوریشنوں پر غیرملکیوں کو رشوت دینے پر پابندی عائد ہے۔ دسمبر میں ایک فیڈرل جج نے اس واقعہ میں ملوث بلیک واٹر کے 5 گارڈز کیخلاف فوجداری الزامات مسترد کردئیے تھے جبکہ نائب صدر جوزف بائیڈن نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے کیخلاف اوباما انتظامیہ اپیل دائر کریگی۔ تین موجودہ اور سابق سرکاری عہدیداروں نے محکمہ انصاف کی جانب سے تحقیقات کی تصدیق کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق محکمہ انصاف نے اس سلسلے میں محکمہ خارجہ سے دو دستاویزات بھی حاصل کی ہیں۔ گزشتہ نومبر میں اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2007ءمیں بغداد کے لنکور سکوائر میں 17 عراقیوں کو ہلاک کرنے کے بعد حقائق کو چھپانے اور عراقی حکام کی حمایت کرنے کیلئے انہیں خفیہ طور پر 10 لاکھ ڈالر رشوت ادا کی تھی۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter