مکتوب طائف ۔۔۔ ممتاز احمد بڈانی

ـ 15 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

ہر مسلمان اگر اپنی روزمرہ مصروفیات میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر علماء کرام اور دیندار لوگوں کی محفل میں بیٹھے اور کوئی ایک بھی اچھی بات پلے باندھ کر اس پر عمل پیرا ہو تو وہ علماء کی محبت میں گزارہ ہو وقت اس کی زندگی کا قیمتی ترین وقت بن جاتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا یہ عمل اس پاک ذات کو پسند آ جائے اور اس کی کامیابی کا سبب بن جائے۔ ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت ہے جو اس مجلس کو ڈھونڈتی رہتی ہے جس میں خدا اور اس کے رسولؐ کا ذکر ہو رہا ہو، جہاں انہیں ایسی مجلس ملتی ہے وہاں زمین سے آسمان تک لائن بنا لیتے ہیں۔ جب مجلس ختم ہوتی ہے تو چلے جاتے ہیں اللہ پاک کی ذات سب کچھ جانتے ہوئے بھی فرشتوں سے فخریہ پوچھتے ہیں کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں فلاں جگہ سے وہاں پر آپ اور آپ کے محبوبؐ کا ذکر ہو رہا تھا اللہ پاک پوچھتے ہیں وہ کیا مانگ رہے تھے؟ اور کس چیز سے پناہ مانگتے تھے فرشتے عرض کرتے ہیں اے خداوندکریم وہ جنت کے طلبگار تھے اور جہنم سے پناہ مانگ رہے تھے پھر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اے فرشتو تم گواہ رہنا میں نے ان سب کے گناہ معاف کر دیئے اور جنت ان پر واجب کر دی۔ اتنے میں ایک فرشتہ عرض کرتا ہے اے رب کریم اس مجلس میں ایک آدمی اپنے کام کی غرض سے آیا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس مجلس کی برکت سے میں نے اسے بھی معاف کر دیا۔ اس حدیث پاک کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی کی مصروفیات کبھی ختم نہیں ہوتیں آج کل کا دور ہی ایسا ہے جس کو دیکھو وہ جلدی میں ہے اور اس دنیاوی زندگی میں اس قدر مصروف ہو گیا ہے کہ دنیا کی جھنجھنٹ ہی ختم نہیں ہوتے۔ دعا ہے کہ رب کریم ہم سب مسلمانوں کو ایسے مخلوق میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں بھی یہی محفل نصیب ہو (آمین) گزشتہ روز ممتاز عالم دین اور مذہبی سکالر مصنف اور کالم نگار مولانا محمد اسلم شیخوپوری سے طائف میں ملاقات ہوئی وہ سعودی عرب حج کی سعادت حاصل کرنے آئے ہوئے تھے انہوں نے طائف میں پاکستانی کمیونٹی سے مقامی ریسٹورنٹ میں خطاب کیا وہ دونوں ٹانگوں سے معذور تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے ان کے مطابق وہ قرآن پاک کی تفسیر لکھ رہے ہیں جو عنقریب مکمل ہونے والی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے اس مقام پر آنے کا بے حد شوق تھا کہ اس مقام کی زیارت کروں جہاں سرور دو عالم محمدؐ نے قدم مبارک رکھے اور آج اللہ تعالیٰ نے مجھے طائف کا مقام بھی دیکھنا نصیب فرمایا۔ الحمداللہ اسی دوران مولانا نے آپؐ کا سفر طائف اور اس دوران جو تکالیف برداشت کیں کا ذکر کیا۔ انہوں نے حضورؐ کے سفر طائف کو اس طرح بیان کیا کہ تمام سامعین اشک بار ہو گئے اس کے علاوہ مولانا نے بیوی، رشتہ داروں اور اہل وعیال کے حقوق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات سے اندرون و بیرون ملک میں تشویش پائی جاتی ہے عام مقامات یا مساجد میں خودکش حملے کر کے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کی جان لینے والے ہر گز مسلمان نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ان دہشت گردی کے واقعات میں اسلام دشمن عناصر ملوث ہیں۔ یہ اسلام دشمن ممالک ہماری فوجی قوت اور ایٹمی طاقت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں مگر انشاء اللہ ان کے ناپاک ارادے کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خود فرمایا ہے کہ یہودونصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے لہٰذا ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ دوست دشمن کی پہچان کرتے ہوئے اپنی پالیسیاں تبدیل کریں۔ مولانا نے کہا کہ ہم سب کو حضورؐ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنا چاہئے اسی میں ہی ہماری دونوں جہانوں میں کامیابی ہے۔ اس موقع پر قاری ذاکر جذبی قاری طفیل مولانا ابوبکر جلالپوری، حاجی فقیر بخشی دشتی، محمد اقبال بڈانی، پروفیسر چودھری زاہد، انجینئر قاضی خالد ، چودھری سرفراز کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter