مکتوب طائف ۔۔۔ ممتاز احمد بڈانی
سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر عمر خان علی شیرزائی نے اپنی تعیناتی کے دوران دوسری مرتبہ طائف کا دورہ کیا۔ جدہ قونصلیٹ میں نئے آنے والے قونصل جنرل عبدالسالک خان ویلفیئر کونسلر نصراللہ وٹو پریس قونصل محمد طارق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سفیر پاکستان کا طائف میں یہ دوسرا دورہ یہاں پر مقیم پاکستان کی کمیونٹی کے لئے بڑی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہاں پاکستانی سکول میں چند ماہ قبل تعینات ہو کے آنے والے پرنسپل محمد خان ملک کے خلاف کمیونٹی نے لاتعداد درخواستیں سفیر کو ارسال کیں۔ شکایات حد سے بڑھ گئیں تو انہیں مجبور ہو کے یہاں آنا پڑا اور ایک طرح کی کھلی کچہری لگائی جس میں ہر ایک کو کھل کر اپنے مسائل اجاگر کرنے کو کہا گیا اور کمیونٹی کو اپنی قیمتی تجاویز پیش کرنے کی درخواست کی گئی۔ سکول کے پرنسپل محمد خان ملک کو ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا انہوں نے اپنی تنخواہ میں خود ہی 50ہزار اضافہ کر دیا۔ کمیونٹی کو اس کے علاوہ جو اہم شکایت تھی کیونکہ وہ ایک ریٹائرڈ فوجی ہیں۔ والدین اور اساتذہ سے ان کا رویہ اپنے ماتحت عام سپاہی جیسا تھا۔ ان کا اخلاق کمیونٹی سے اتنا اچھا تھا کہ سکول سٹاف اور والدین کو سکول میں کئی بار پولیس کی مدد لینی پڑی ۔ جس سے نہ صرف سکول کی بلکہ پاکستانی قوم کی بدنامی کا سامان ہوتا رہا۔ جہاں تک پرنسپل کی تعیناتی کا معاملہ ہے سکول کی طرف سے پرنسپل اور دوسرے سٹاف کے لئے پاکستانی ویزے بھیجے گئے۔ درخواستیں طلب کی گئیں مگر صرف سفارشی لوگوں کاہی انتخاب کیا گیا۔ سابقہ سکول مینجمنٹ کمیٹی کے عہدیداروں نے ثبوت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سے جس طرح پرنسپل کا انتخاب ہوا سابق سفیر پاکستان اور سابق قونصل جنرل ضیغم الدین اعظم کے حکم پر ان کا تقرر کیا گیا۔ مجبوراً ایسا کرنا پڑا ۔کیونکہ اس کی درخواست ایک سال قبل قونصل جنرل کے ہاں آئی ہوئی تھی۔ بہرحال اس موقع پر کمیونٹی نے اپنے مسائل اور تجاویز سے آگاہ کیا۔ سماجی رہنما راجہ محمد ریاض، راجہ کمال، چودھری زاہد محمد تاج اور عبداللہ سندھی
نے اپنی تجاویز پیش کیں ۔جس پر سفیر پاکستان نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ایسی اچھی سوچ رکھنے والے نیک دل انسان ہوں تو ہمارا ملک کہاں سے کہاں پہنچ جائے۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ یہاں پر مقیم ہر پاکستانی اپنے ملک کا سفیر ہے۔ وہ کسی ایسی کارروائی میں ملوث نہ ہو جس سے ملک و قوم کی بدنامی ہو۔ انہوں نے کہا کہ قید کی سزا پوری کرنے والے پاکستانیوں کو جلد وطن بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز، آل سعود نے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سکول کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سکول مینجمنٹ کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اگلے ہفتہ سے کام شروع کر دے گی۔ پرنسپل کو رکھنے یا نہ رکھنے کا اسے اختیار ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا معیار بہتر کرنے کے لئے اساتذہ اور والدین ایک دوسرے سے تعاون کریں اور آپس میں مل بیٹھ کر مشاورت سے خود ہی مسائل کا حل نکالیں، میرے دروازے تمام پاکستانیوں کے لئے ہر وقت کھلے ہیں۔
Post New Comment