سفارتخانہ پاکستان میں یوم آزادی کی تقریب

ـ 20 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

مکتوب فرانس..... صاحبزادہ عتیق الرحمن
اگست کا مہینہ جو اپنے جلو میں خوشیاں لیکر آتا تھا اور اس مہینے میں سیاسی اور معاشی طور پر غلام قوم کو یوم آزادی منانے اور دل کو بہلانے کیلئے ایک دن میسر آتا تھا۔ لیکن اس سال اگست کا مہینہ پوری قوم کے لئے ایک آزمائش بن کر آیا۔ ایک ماہ قبل جس ملک کے صوبے پانی کیلئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونے جا رہے تھے۔ اُس ملک کے طول و عرض میں اتنا پانی آ گیا کہ یہ پانی رحمت کی بجائے زحمت نہیں بلکہ عذاب بن گیا۔ انسانی تاریخ کے ہولناک ترین سیلابوں میں سے ایک سیلاب جس نے خیبر پی کے سے لیکر سندھ تک کروڑوں لوگوں کو گھر سے بے گھر کر دیا۔ دشمن کے لشکر جرار کی طرح رستے میں آنے والے گاﺅں، شہر، دیہات، مال مویشی سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔ اور اپنے پیچھے تباہی و بربادی، غربت و لاچارگی کی وہ تصویر چھوڑ گیا۔ جس میں ٹوٹے ہوئے گھر، اُجڑے ہوئے خاندان، بے گھر مرد و زن بھوک سے بلبلاتے بچے، بیماریوں میں مبتلا متاثرین، خوراک کیلئے گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے ہجوم، ہیلی کاپٹروں کی طرف مدد کیلئے ہاتھ اُٹھائے بے گھر لوگ، آنکھوں میں بیچارگی کے آنسو سجائے بوڑھی خواتین، المختصر 14 اگست 2010ءنے ہمیں 14 اگست 1947ءکی یاد تازہ کر دی۔ہندستان سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کی بھی یہی کیفیت تھی کہ ایک ریڑھا اُس پر تھوڑا سا سامان کچھ بوڑھے مرد و خواتین اور سینکڑوں کی تعداد میں مرد و زن ننگے پاﺅں اور تن کے کپڑوں کے ساتھ منزل کی طرف گامزن ہیں۔ آج فرق صرف اتنا ہے کہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی بجائے کلر فلمیں ہیں لیکن حالت وہی ہے لٹے پھٹے قافلے، خاندانوں کے خاندان، تہی دست و تہی دامن، عمر بھر کی پونجی اور اثاثے غرقاب ہونے کے بعد کیمپوں میں یا سکولوں یا کھلے آسمانوں تلے پڑے صاف پانی، خوراک اور ادویات کے منتظر ہیں۔ اندرون و بیرون ملک پاکستانی متاثرین سیلاب کیلئے فنڈز اور عطیات جمع کرا رہے ہیں لیکن وہ جذبہ اور جوش نہیں نظر آ رہا ہے جو 2005ءکے زلزلہ میں نظر آیا تھا اور جس جذبہ نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔
شاید قوم اپنے سیاسی و مذہبی راہنماﺅں کی طرف دیکھ رہی ہے کہ قارون کے خزانے رکھنے والے اُنکے کھرب پتی لیڈران عوام اور غیر ملکی اداروں سے مانگنے کے علاوہ کیا اپنی جیب سے بھی کچھ نکالتے ہیں۔ عوام منتظر ہیں کہ پاکستان کے صدر مملکت اپنے پندرہ ہزار کروڑ روپوں کے اثاثوں میں سے کتنے سو کروڑ اپنے عوام کیلئے عطیہ کرتے ہیں۔ قوم منتظر ہے کہ اُنکے وزیراعظم جن کا بیٹا 5 کروڑ کی گاڑی میں بیٹھتا ہے اور جن کی بیگم خاتون اول کا پچاس کروڑ کا قرضہ معاف کیا جاتا ہے جو خود کروڑ، کروڑ روپے کی گھڑیاں پہنتے ہیں متاثرین سیلاب کیلئے وزیراعظم ریلیف فنڈ میں کیا دیتے ہیں۔
قوم منتظر ہے کہ دو بار کے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اپنے تیرہ ہزار کروڑ روپوں کے اثاثوں میں سے کتنے سو کروڑ روپے اُن عوام کیلئے عطیہ کرتے ہیں جن کے کیمپوں کا وہ روزانہ دورہ کر رہے ہیں۔
قوم منتظر ہے کہ پنجاب کی ترقی کے دعویدار چودھری مونس الٰہی اپنے تین ہزار کروڑ روپوں میں سے کتنے کروڑ روپے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کیلئے دان کرتے ہیں۔
قوم منتظر ہے کہ ہر جمہوری آمر اور ہر ڈکٹیٹر کی حکومت کا حصہ بننے والے مولانا فضل الرحمن ڈیزل کی مد میں کمائے جانے والے دو ہزار کروڑ سے زائد کے اثاثوں میں سے کتنے کروڑ خیبر پی کے کے بے گھر عوام کیلئے مختص کرتے ہیں۔
قوم منتظر ہے کہ خود ساختہ جلاوطن اور ہر حکومت کا زبردستی حصہ بننے والے، اور لندن میں اپنی سکیورٹی پر کروڑوں خرچ کرنے والے الطاف حسین کتنے کروڑ سندھ کے لٹے پھٹے غریب عوام کیلئے عطیہ کرتے ہیں۔ قوم منتظر ہے کہ دینی خدمات کے صلے میں حکومت پنجاب سے اٹھائیس کروڑ روپے کا پلاٹ لینے والے صاحبزادہ فضل کریم اس کار خیر میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں۔ قوم منتظر ہے کہ پاکستان کے کھرب پتی بزنس مین ہاشوانی، میاں منشائ، ملک ریاض اور سینکڑوں دوسرے ارب پتی قوم کے دکھ درد میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں۔
فرانس میں بھی تارکین وطن نے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے فنڈز اکٹھا کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق نے یوم آزادی کے پروگرام منسوخ کر کے ان پروگراموں پر خرچ ہونے والا فنڈ سیلاب زدگان کیلئے مختص کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے میاں محمد حنیف، طلعت چوہان اور منظور حسین جنجوعہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو کمیونٹی سے مزید فنڈ اکٹھا کرے گی۔ ادارہ منہاج القرآن اور دوسری مساجد میں افطاری تقریبات منسوخ کر دی گئیں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ عطیات جمع کئے جا سکیں۔ انجمن فلاح دارین، امامیہ اور ورلڈ اسلامک مشن کے مراکز میں بھی عطیات جمع کئے جا رہے ہیں۔ سفارتخانہ پاکستان میں صرف 14 اگست یوم آزادی کے حوالے سے ایک سادہ تقریب کا انعقاد ہوا۔ پرچم کشائی کی تقریب کے دوران ڈپٹی ہیڈ آف مشن سفیر پاکستان شفقت سعید نے صدر پاکستان کا پیغام پڑھ کر سنایا اور بڑے جذباتی انداز میں پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے قائم کردہ وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں فراخدلی کے ساتھ عطیات جمع کرائیں اور عہد کریں کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے سخت محنت کریں گے۔ اُنہوں نے تقریب میں موجود کمیونٹی معززین سے فرداً فرداً ملاقات بھی کی اور سیلاب زدگان کیلئے مدد کی اپیل کی۔ اس موقع پر پیرس کی سیاسی و سماجی شخصیت اور پی پی پی کے راہنما قاری فاروق احمد فاروقی نے اپنی طرف سے دی جانے والی افطار پارٹی منسوخ کر کے ایک ہزار یورو سفیر پاکستان کو سیلاب زدگان کیلئے دئیے۔
پی پی پی فرانس کے عہدیداروں کی ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شاہد لنگڑیال اور ندیم مہوٹہ کی نگرانی میںمتاثرین سیلاب کیلئے فنڈز اکٹھے کئے جائیں گے۔ کمیونٹی کے دیگراہم افرادبھی اپنے احباب سے فنڈز اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ سیلاب زدگان کی مدد کی جا سکے۔ لیکن ان میں اجتماعیت کا فقدان ہے۔ وہی کمیونٹی جو صرف چار ماہ قبل ایک ٹریول ایجنٹ اور پی آئی اے فرانس کے مابین کمیشن کے تنازعے پر اکٹھی ہو گئی تھی۔ آج اتنے بڑے قومی سانحے پر اکٹھی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ ایک فرد واحد کیلئے تو درجن بھر سے زائد میٹنگز کی گئیں سفیر پاکستان سے ملاقاتیں کی گئیں۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا سہارا لیا گیا۔ لیکن افسوس کہ آج اتنے بڑے قومی سانحے پر جب کروڑوں پاکستانیوں کو ہماری ضرورت ہے ہر فرد اور ہر جماعت اپنی ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ مسجد بنائے بیٹھا ہے۔
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter