پاکستانی پریس کلب پیرس کی طرف سے مجید نظامی ایوارڈ تقسیم کرنے کی پروقار تقریب

ـ 7 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

پیرس (صاحبزادہ عتیق الر حمن سے) پاکستانی صحافیوںاور میڈیا کی کاوشوں سے پاک فرانس دوستی کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔ فرانس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے سرمایہ ہیں۔ یہ کمیونٹی بڑی محنتی اور قانونی کی پاسداری کرنے والی کمیونٹیز میں شمار کی جاتی ہے خاص طور نوجوان نسل کی تعلیم کے شعبے میں نمایاں کارکردگی نہایت حوصلہ افزا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستانی پریس کلب پیرس اور پاکستان پوسٹ کراچی کی دس سالہ سالگرہ کی اولڈ جواد ریسٹورنٹ پیرس میں ہونے والے تقریب میں مقررین نے کیا۔ اس پروقار تقریب کے مہما ن خصوصی فرنچ قونصلیٹ جنرل مسٹر پیئر سایاں تھے۔ پاکستانی پریس کلب پیرس کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کرنےوالوں کو مجید نظامی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ تقریب سے مقررین نے فرنچ اور اردو زبانوں میں خطاب کیا۔ چوہدری شاہین اختر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی جتنی اہمیت آج ہے پہلے پاکستا ن میں اس کا ادراک نہیں تھا۔ پاک فرانس دوستی کیلئے ایسے مشترکہ پروگرام ہوتے رہنے چاہئیں۔ غزالہ بھٹی نے کہا کہ ہم نے فرانس میں پاکستانی فیملیز کو متحرک کیا ہے۔ پاکستانی کلچر اور صحیح امیج کو ہر سطح پر متعارف کروایا ہے۔ سینئر صحافی منظور جنجوعہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان وہ نہیں ہے جو مغربی میڈیا میں دکھایا جاتاہے۔ پریس کلب کے تمام دوست پاکستانی امیج کو بہترطور پر پیش کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔ فرانسیسی میڈیا کے ٹاک شوز میں پریس کلب کے ساتھی بھرپور طریقے سے پاکستان کا دفاع کررہے ہیں۔ ہم اپنا فرض قوم کا قرض سمجھ کر نبھا رہے ہیں۔ صحافیوں میں ایوارڈ لینے کا رواج پایا جاتا ہے لیکن پاکستان پریس کلب پیرس نے پچھلے دس سال سے یہ روایت قائم کر رکھی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو اعزاز سے نوازتی ہے۔ قائد لیگ کے چوہدری پرویزلوہسر نے کہا پیرس کی پریس کلب مبارکباد کی مسحق ہے جس نے اتنی اعلیٰ معیار کی محفل سجانے کے ساتھ ساتھ نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو اعزاز دینے کا اہتمام کیا ہے۔ ہمیں فرانسیسی سیاست میں بھی حصہ لینا چاہیے برطانیہ میں کئی پاکستانی پارلیمنٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاںبھی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی سے فرانسیسی سیاست میں جانے کے راستے کھلیں گے۔ میاں محمد امجد نے کہا کہ ہماری کمیونٹی میں ایسے نوجوان موجود ہیں جن کی راہنمائی کی جائے تو وہ بڑے بڑے تعلیمی اداروں اور زندگی کے ہر شعبے میں نام پیدا کرسکتے ہیں۔ ہم پاک فرانس دوستی کیلئے ماضی کی طرح آئندہ بھی کام کرتے رہیں گے۔ منہاج القرآن یورپ کے امیرعلامہ میر حسن قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی آخر الزماں یہ پیغام دے گئے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو، چاند ستاروں سے آگے کے علوم پر دسترس حاصل کرو۔ میڈیا کے ذریعے آپ پوری انسانیت کو ایک دوسرے کے قریب لاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر ونسن لوئس نے کہا کہ میں دو پاکستانی ڈاکٹروں کے ساتھ ملکر ٹرک آرٹ، علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی تصویر سے سجی فوکسی میں دنیا کا سفرکرکے پاکستان کا صحیح امیج پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستا ن میرا دوسرا گھر ہے۔ میں آج بھی پاکستانی آرٹ سے سجی فوکسی میں سفر کرتا ہوں جس جگہ سے گزرتا ہوں لوگ پاکستانی کلچر اور آرٹ سے متعارف ہوتے ہیں۔ مہمان خصوصی مسٹر پیئر سایاں نے کہا کہ آج کی تقریب کی خوبصورت اور اہم ترین بات جو مجھے پسند آئی ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے ایک ہی جگہ پاکستان کی تمام سیاسی، مذہبی، سماجی اور کلچرل جماعتوں کو اکٹھا کرکے اسے ایک مِنی پاکستان کی شکل دےدی ہے۔ میں چار سال سے پاکستان میں ہوں میں نے کراچی سے پشاور، کوئٹہ سے اسلام آباد ،آزاد کشمیر سے شاہر اہ ریشم تک کا سفر کیا ہے میں جس پاکستان کو جانتا ہوں وہ یورپی میڈیا میں پیش کیا جانے والا پاکستان بالکل مختلف ہے۔ فرانس میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے لئے سرمایہ ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter