نیویارک، لندن (نمائندہ خصوصی، ایجنسیاں) اقوام متحدہ نے افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لئے ابتدائی اقدام کے طور پر کچھ سینئر طالبان رہنماو¿ں کو دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرنے کے لئے نام تجویز کرے۔ اس حوالے سے طالبان رہنماو¿ں کی فہرست فراہم کی جائے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کابل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کائے ایڈی نے امریکی فوجی حکام سے بھی درخواست کی کہ وہ امریکی فوجی جیلوں میں قید 750 مشتبہ شدت پسندوں کے کیسز پر نظر ثانی جلد از جلد مکمل کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دو اقدامات طالبان اور افغان حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے آغاز کا باعث بنیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ نتائج کے حصول کے لیے بااختیار افراد سے مذاکرات کی ضرورت ہے اور اب مذاکرات کا وقت آگیا ہے۔ دوسری طرف نیٹو کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بہت جنگ ہو چکی اور مسائل کا سیاسی حال تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ لندن میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے طالبان سمیت کسی بھی افغانی کے کردار کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں نیٹو کمانڈر جنرل مک کرسٹل نے کہا کہ افغانستان کے تمام تنازعات کا سیاسی حل ناگزیر ہے' طالبان مستقبل کی افغان حکومت چلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ برطانوی اخبار کو دئیے گئے انٹریو میں جنرل مک کرسٹل نے کہا کہ امریکہ کے مزید تیس ہزار فوجی افغانستان آنے سے طالبان کمزور ہونگے اور طالبان رہنماو¿ں کو امن سمجھوتہ قبول کرنا پڑے گا اور افغانستان میں جنگ ختم ہوجائے گی۔افغانستان میں نیٹو کمانڈر نے کہاکہ وہ ایک فوجی کی حیثیت میں طالبان کو امن کی پیشکش نہیں کرسکتے کیوں کہ امن مذاکرات کرنا سیاسی رہنماو¿ں کام ہے تاہم فوج امن مذاکرات کیلئے ماحول سازگار بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں لڑائی بہت ہوچکی اب اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ طالبان کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو مستحکم کرنے میں مددگارثابت ہوسکتے ہیں۔
Post New Comment