نیویارک (نمائندہ خصوصی/ اے ایف پی) اس سال جنوری میں اہم طالبان کمانڈر عبدالغنی برادر کی کراچی سے گرفتاری کا مقصد پاکستان کی طرف سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونیوالے مذاکرات کو ناکام بنانا تھا۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستانی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ اخبار کے مطابق عبدالغنی برادر ملا عمر کے انتہائی قابل اعتماد ساتھی اور اہم ترین فوجی کمانڈر ہیں۔ انہیں سی آئی اے اور پاکستانی انٹیلی جنس کے ایک خفیہ چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا اور اسے طالبان کیلئے شدید دھچکا قرار دیا گیا تھا۔ اخبار نے نام بتائے بغیر پاکستانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں سی آئی اے کی مدد سے گرفتار کرکے کا سارا منصوبہ پاکستانی انٹیلی جنس نے تیار کیا تھا تاکہ پاکستان کو نظرانداز کرکے طالبان اور افغان حکومت میں جو خفیہ مذاکرات ہورہے ہیں انہیں ناکام بنا دیا جائے۔ اخبار کے مطابق کمانڈر برادر کی گرفتاری کے بعد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے دیگر 23 طالبان لیڈروں کو بھی حراست میں لے لیا۔ ان میں سے بہت سے برسوں سے اسلام آباد کی حفاظت میں رہ رہے تھے۔ اخبار کے مطابق ان گرفتاریوں کا نتیجہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے خاتمہ کی صورت میں نکلا۔ اخبار کے مطابق ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے برادر اور دیگر طالبان رہنماﺅں کو اس لئے گرفتار کیا کہ وہ ہمارے بغیر افغان حکومت سے ڈیل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ہم طالبان کو ہرگز اسکی اجازت نہیں دینگے کہ وہ کرزئی اور بھارتیوں کیساتھ کوئی ڈیل کریں۔
Post New Comment