مکہ مکرمہ (مبشر اقبال لون استادانوالہ سے) پاکستان مسائل سے دوچار ضرور ہے لیکن انشا اللہ پاکستان' نظرےہ پاکستان اور دو قومی نظریہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی نے صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان ہی ماضی اور حال میں پاکستان کی بنیاد اور اس کی بقاءکا ضامن ہے اور اگر کائنات میں ایک مسلمان بچہ بھی زندہ ہے تو دو قومی نظریہ قائم دائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ہی دانستہ یا غیر دانستہ 3 کوتاہیاں ہوئی ہیں جن کے نتائج ہم آج بھگت رہے ہیں۔ اردو کو قومی زبان قرار دینے کے ساتھ دفتری زبان بھی لازمی قرار دینا چاہئے تھا۔ عالمی علوم کو مکمل رائج کر کے انہیں اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی تو آج ملک دولخت نہ ہوتا۔ 1956ءکے دستور کو موت سے ختم کر دیا گیا اور بڑی جدوجہد کے بعد 1973ءکا دستور پیش کیا گیا جو بڑی حد تک اسلامی ضروریات کو پورا کرتا ہے اسے بھی مکمل طور پر قابل عمل ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اس دستور کے مطابق اگر ذہن سازی کی جاتی اور صرف پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی ہوتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اگر اب بھی 1973ءکے دستور پر عمل کیا جائے تو نقصانات کے باوجود مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ مدارس کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی اہمیت اور افادیت سے انکار ناممکن ہے۔ انہوں نے روزنامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف جناب مجید نظامی کی دینی' ملی اور قومی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوائے وقت نظریہ پاکستان کا محافظ اور ملت اسلامیہ کا ترجمان ہے۔
Post New Comment