مکہ مکرمہ (مبشر اقبال لون استادانوالہ سے) ہم اپنے لئے پریشان تو تھے ہی لیکن پاکستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے ہم بہت رنجیدہ ہیں کیونکہ مضبوط و مستحکم پاکستان ہی کشمیریوں کی امیدگاہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت مذاکرات مسئلہ کشمیر کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کو مذاکراتی ایجنڈا کشمیر سے مشروط کر دینا چاہئے کیونکہ بنیادی مسئلہ کشمیر ہے۔ ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں بھارت نے کوئی پیشرفت کی ہو بلکہ اس کا طرزعمل یہی رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا کیا جائے اور پھر دنیا کی توجہ اس پر مبذول ہو جائے تاکہ مسئلہ کشمیر سردخانے میں پڑا رہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا رویہ منفی ہے وہ کشمیر کو مذاکراتی ایجنڈا سے نکالنا چاہتا ہے۔ کشمیریوں کو شامل کئے بغیر مذاکرات کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں سے جاری تحریک حریت کشمیر کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ گلی گلی' گاﺅں گاﺅں شہدا کے قبرستان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 ہزار سے زیادہ ایسے افراد ہیں جنہیں اپنے لواحقین کے سامنے گرفتار کیا گیا لیکن طویل عرصے سے وہ لاپتہ ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے چھاپوں' گرفتاریوں' تشدد' دوران حراست گمشدگیوں' قتل اور عفت مآب خواتین کی بے حرمتی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ نوجوان کشمیری نسل سروں پر کفن باندھ کر میدان میں نکلی ہوئی ہے کشمیریوں کی شہادتوں اور قربانیوں نے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کر دی۔ اعلانات محض بیان بازی سے ہی تعبیر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کب فوجی انخلاءہوا۔ کس نے فوج کو جاتے ہوئے دیکھا؟ پورے مقبوضہ کشمیر میں 5 لاکھ سے زائد فوج موجود ہے۔ ان کے کیمپ کام کر رہے ہیں۔ ہر جگہ فوج تعینات ہے تو کہاں اور کس جگہ سے فوج ہٹائی گئی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے کشمیریوں کو مائل یا للچایا نہیں جا سکتا۔ میر واعظ نے کہا کہ بھارتی حکومت وعدے تو کرتی ہے لیکن انہیں کبھی نہیں نبھاتی۔ انہوں نے کہا کہ 1947ءسے کشمیری عوام کے ساتھ بھارت نے کئی وعدے کئے لیکن ان وعدوں کی کبھی ایفا نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے تمام ادارے قومی مفاد سے بندھے ہوئے ہیں اور وہ ان سے ہٹ کر سچائی کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنی مہم کو پورے مکر و فریب سے جاری رکھے ہوئے ہے اور ایک سازش کے تحت وہ خود ساختہ ممبئی حملوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مذموم کوشش کر کے خود کو دنیا کے سامنے مظلوم پیش کرنا چاہتا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر سبوتاژ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کے پانیوں پر بھارتی قبضہ جبر کی انتہا ہے اور ہمیں اس بات کا بڑا دکھ ہے کہ بھارت ہمارے پاکستانی بھائیوں کو پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترسا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ بھارت نے کشمیر پر جبراً قبضہ کر رکھا ہے۔ عالمی طاقتوں نے اگر اس خطے پر توجہ نہ دی تو جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نظامی صاحب جس جراتمندی و دلیری سے آزادی کشمیر کے لئے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کشمیریوں کی اخلاقی طور پر بھرپور حمایت کر رہے ہیں اس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔ مادہ پرستی کے اس دور میں نظامی صاحب کا یہ کردار کسی جہاد سے کم نہیں۔
Post New Comment