این اے 55 راولپنڈی کے ضمنی انتخابات مسلم لیگ (ن) کی شاندار فتح اور لال مسجد آپریشن پر متکبرانہ انداز میں ’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘ کے الفاظ کہنے والے شیخ رشید احمد کی بدترین شکست کے ساتھ مکمل ہوگئے۔ بارش اور موسم کی خرابی کے باوجود راولپنڈی کے غیور اور باشعور عوام نے ووٹ کاسٹ کرنے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ووٹ کاسٹ کئے اور مسلم لیگ ن کے امیدوار شکیل احمد اعوان کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی اس فتح پر مکہ مکرمہ میں مقیم محب وطن پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے اللہ رب العزت کا شکر بجالاتے ہوئے مسجد الحرام میں بیت اللہ شریف کے طواف اور شکرانے کے نوافل ادا کئے اور مٹھائی تقسیم کی۔ ارض حرمین شریفین میں مقیم پاکستانی اس بات پر خوش تھے کہ راولپنڈی میں تمام پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابات پرامن رہے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھاندلی نہیں کی گئی کیونکہ اگر دھاندلی کی جائے تو حالات یقیناً کشیدہ ہو جاتے ہیں اور انتخابات پرامن طور پر نہیں ہوتے کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ضرور پیش آ جاتا ہے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بھی کہا کہ انتخابات میں کسی قسم کی کوئی دھاندلی نہیں کی گئی لیکن اگر کسی کو دھاندلی کے حوالے سے کوئی شکایت ہے تو وہ نشاندہی کرے ہم وہاں پہنچ کر اس کا جائزہ لیں شکایت کنندہ بھی وہاں پہنچے تاکہ اس کا ازالہ کیا جاسکے لیکن ہمارے تک کوئی شکایت نہیں پہنچائی گئی انتخابات پرامن اور شفاف ہوئے کوئی شکایت دھاندلی بارے میں کسی نے بھی درج نہیں کرائی ہے۔ میڈیا … کے اعلان کے کردہ نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) 63888 سے زائد ووٹ حاصل کئے اور این اے 55 سے ایم این اے منتخب ہوگئے۔ شیخ رشید نے 42530 کے قریب ووٹ حاصل کئے۔ این اے 55 راولپنڈی کے ضمنی انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی میں مسلم لیگ ن کی مستقبل کی سیاست کی کامیابی اور فتوحات کی راہ متعین کردی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد راولپنڈی میں جلسے سے جو خطاب کیا اس پر ارض حرمین شریفین میں مقیم پاکستانیوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نوازشریف نے یہ درست و بجا کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ اصل میں شیخ رشید سے نہیں تھا علی بابا چالیس چور سے تھا اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے اب چور بازاری اور جھوٹ کی سیاست ہرگز نہیں چلے گی یہ معرکہ تبدیلی کا معرکہ ہے تبدیلی آ کر رہے گی۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ شیخ رشید کو ٹکٹ صدر زرداری نے دیا تھا لیکن راولپنڈی کے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عوام میں کتنی مقبول جماعت ہے۔ شیخ رشید پیپلز پارٹی کی طرف سے انتخابات لڑ رہے تھے۔ قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نوازشریف نے کہا شیخ رشید کی ہار کے ساتھ ہی بے وفائی کی سیاست ختم ہوگئی ہے۔ اصل میں یہ معرکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان تھا کیونکہ شیخ رشید کے جلسے میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے لہراتے نظر آ رہے تھے جبکہ راولپنڈی میں پپیلز پارٹی کا 40 ہزار کے قریب ووٹ بنک موجود ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کا ووٹ شیخ رشید کو نہ ملتا تو وہ اپنی پاور اور ووٹ آف بینک راولپنڈی میں دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ (ق) لیگ کی بھرپور حمایت بھی شیخ رشید کیساتھ تھی۔ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بھی شیخ رشید کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ انکے ووٹر اور سپورٹر شیخ رشید کو این اے 55 راولپنڈی کے انتخابات میں کامیاب کرانے کیلئے کوششیں تیز کر دیں اتنی زیادہ حمایت اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کی حمایت کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو شکست نہیں دی جاسکی۔
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے وہ سیاہ دن اور ڈراؤنی راتیں جس کے آپریشن کی حمایت میں شیخ رشید کابینہ کے اجلاس میں گرجتے اور اپنے پاس پرویز مشرف کو جوش دلاتے رہے۔عوام کو ابھی نہیں بھولے ہونگے۔
ارض حرمین شریفین میں مقیم محب وطن پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کے باشعور غیور عوام نے این اے 55 میں ضمنی انتخابات میں وفاداریوں کے اس معرکہ میں پرویزی آمریت کی باقیات کے لال حویلی بتوں کا قلع قمع کر دیا ہے۔
Post New Comment