پاکستانی حجاج کیلئے رہائش گاہوں کے معاہدے میں شدید بے ضابطگیاں

ـ 9 جون ، 2010
  • Adjust Font Size

مدینہ منورہ (جاوید اقبال بٹ/ نمائندہ خصوصی) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستانی عازمین حج کے لئے رہائش گاہیں حاصل کرنے میں شدید بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ پاکستان حج مشن کے ڈائریکٹر جنرل را¶ شکیل احمد اور جوائنٹ سیکرٹری آفتاب اسلام نے من پسند گروپس کے ساتھ مہنگے معاہدے کئے جو رہائش گاہیں 400 ریال میں مل سکتی تھیں ان کا معاہدہ 500 ریال میں کرکے حجاج پر ناروا بوجھ ڈالا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈائریکٹر حج ڈاکٹر ارسلان سبطین اور ڈپٹی ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ فاروق کھوکھر کو معاہدے سے لاعلم رکھا گیا جبکہ پاکستانی سفیر کا ممبر ہی نہیں بنایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی جی را¶ شکیل احمد نے 80 ہزار حجاج کرام کیلئے بذریعہ اشتہار 500 ریال اور منطقہ المرکزیہ (حرم شریف کے قریب ترین علاقہ) میں 40 فیصد حجاج کرام اور باقی 60 فیصد کیلئے 800 میٹر اندر رہائش گاہیں حاصل کرنے کیلئے پشکش طلب کیں جس کے لئے 22 سعودی کمپنیوں نے اپنے کاغذات جمع کرائے۔ ڈی جی حج مشن نے من مانی کرتے ہوئے خود ہی اپنے پسندیدہ گروپس کے ساتھ معاہدہ کر لیا اور تین ہزار پاکستانی ہا¶س میں رہائش پذیر ہوں گے جو معاہدہ کیا گیااس کے مطابق اراک کمپنی سو فیصد رہائش گاہیں حرم شریف کے قریب ترین مہیا کرنے کی پابند ہو گی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دیگر کمپنیاں یہی رہائش گاہیں چار سو ریال یا اس سے بھی کم پر دینے کے لئے تیار ہیں مگر انہیں نظرانداز کر دیا گیا۔ ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ نے معاہدے کے کاغذات پر دستخط کئے بغیر حتمی منظور کے لئے وزارت مذہبی امور کو اسلام آباد بھجوا دئیے۔ سعودی عرب کی پاکستانی کمیونٹی نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا کر تحقیقات کرانے کا حکم دیں۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter