حجاج کرام کیلئے مونو ٹرین کا معاہدہ ہوا نہ مدینہ میں پروازوں کی براہ راست لینڈنگ کی‘ اجازت حاصل کی جا سکی: ذرائع
مدینہ منورہ (جاوید اقبال بٹ) پاکستانی حجاج کرام کے پہلے قافلے جس میں 450 حجاج کرام تھے نے عمرہ ادا کر لیا ان کا مدینہ منورہ پہنچنے پر پاکستان حج مشن مدینہ منورہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمر فارقو کھوکھر‘ سینئر افسر سیف الرحمان اور دوسرے سٹاف ممبران نے والہانہ استقبال کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر حج نے انکو عمرہ کی مبارک اور مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے دوران اپنی پاکستان کے مصائب کے حل کی دعا کے لئے درخواست کی بالخصوص پنجاب میں ڈینگی کی وبا اور سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے متاثرین کے لئے انہوں نے نمائندہ نوائے وقت اور وقت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال 90 ہزار پاکستانی حجاج کرام کی رہائش کے لئے 8 سعودی رہائشی کمپنیوں سے معاہدے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حجاج کرام کے علاج معالجہ کے لئے پاکستانی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر مشتمل ایک ہسپتال اور تین مختلف علاقوں میں ڈسپنسریاں قائم کی گئی ہیں۔ حجاج کرام کی گمشدگی اور معلومات کے ایک مین کنٹرول روم اور دو سیکٹر آفس قائم کئے گئے ہیں۔ اس سال خدام الحجاج کی تعداد 150 سے زائد ہے۔ یاد رہے کہ اس دفعہ سیکرٹری مذہبی امور نے نمائندہ وقت نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پالیسی کے مطابق اس سال 30 ہزار حجاج کرام براہ راست مدینہ منورہ آئیں گے اور پاکستانی حجاج کرام کے لئے ”مونو ٹرین“ کا معاہدہ کی بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔ جبکہ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مونو ٹرین کا معاہدہ کیا جا سکا اور نہ مدینہ منورہ میں براہ راست پروازوں کی لینڈنگ کی اجازت حاصل کی جا سکی اور حجاج کرام کیلئے بہترین حج انتظامات کے دعوے ایک بار پھر دعوے ہی لگ رہے ہیں۔
Post New Comment