تازہ ترین:

اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاءکے عمل کو تیز کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کرینگے: شاہ محمود قریشی

ـ 30 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان طالبان قیادت کو مصالحت پر آمادہ کرنے کیلئے پاکستان اپنا اثرورسوخ استعمال کریگا جبکہ اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاءکے عمل کو تیز کرنے کیلئے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے اور افغان فوج اور پولیس کو تربیتی سہولتیں دیں گے۔ طالبان قیادت میں اب گنتی کے چند افراد رہ گئے ہیں جن کے نظریات میں تبدیلی نہیں آئی کیونکہ اکثریت کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور طالبان کی بڑی تعداد حکومت کیساتھ مصالحت کیلئے تیار ہے۔ طالبان کی خام خیالی ہے کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےنوائے وقت/ دی نیشن کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے افغانستان میں اثرورسوخ کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان افغانستان کیساتھ تعلقات اچھے بنائے۔ افغانستان کی سوچ میں اب بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ افغان وزیر خارجہ زلمے رسول کو وزارت سنبھالنے پر پارلیمنٹ میں اکثر اراکین نے سب سے پہلا سوال یہ کیا کہ انکا پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا کیا پلان ہے؟ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کو چھوڑ کر اب پاکستان کے قریب آنے کا ماحول بن چکا ہے اسلئے مصالحتی عمل کی کوششوں اور اس آڑے وقت میں پاکستان کو انکی مدد کرنی چاہئے جس کی درخواست حامد کرزئی نے لندن کانفرنس میں کی ہے۔ افغان صدر نے لندن کانفرنس میں پاکستان کیخلاف ایک جملہ تک نہیں بولا جس سے پتہ چلتا ہے کہ سوچ بدل رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ القاعدہ کے ساتھ امریکہ کا کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ امریکہ کا اس حوالے سے کلیئر مینڈیٹ ہے کہ دنیا بھر میں انکے نیٹ ورک کو توڑ کر انہیں شکست دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوج صرف امریکہ کے کہنے پر آپریشن نہیں کر رہی۔ قبائلی علاقوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب منوچہر متقی کو اسلام آباد میں ملاقات کے دوران لندن کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے کہا تھا لیکن ایسا نہ کرکے وہ اپنا موقف پیش کرنے سے محروم رہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے امریکہ کو ایران کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا کیونکہ افغانستان میں قیام امن کیلئے اسکا اہم کردار ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ طالبان قیادت کو مصالحتی عمل کیلئے راضی کرنے میں پاکستان اپنا اثرورسوخ استعمال کریگا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت کبھی مصالحتی عمل کو نہیں مانے گی لیکن چند شخصیات کی بجائے دیگر عناصر کو دیکھنا ہوگا جو مصالحت کرنا چاہتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں قیام امن کے بغیر پاکستان کو توانائی کے شعبے میں نئے مواقع حاصل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا کی ریاستوں سے تعلقات کے فروغ کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لندن کانفرنس میں پاکستان کے تکونی فارمولے ڈائیلاگ' ڈیٹرنس اور ڈویلپمنٹ کی جیت ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں مصالحتی عمل کی کامیابی کے بعد بھی امریکہ پاکستان میں جمہوریت کی حمایت جاری رکھے گا۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter