لندن (آصف محمود سے + ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) افغانستان کے بارے میں لندن میں ہونے والی عالمی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں معاشی صورتحال میں ابتری کے پیش نظر افغانستان کے ذمہ 1.6 ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ طالبان سے مصالحت اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے حکومت کے منصوبے کی حمایت کی گئی۔ اس سال کے آخر تک کچھ صوبوں کا کنٹرول افغان فورسز کے حوالے کر دیا جائےگا۔ ایران نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ رواں سال کے آخر میں اسی طرح کی ایک کانفرنس کابل میں ہوگی جہاں لندن کانفرنس میں ہونےوالے اعلانات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائےگا۔ عالمی برادری نے کرزئی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان سے کرپشن کے خاتمے' امن کے قیام' استحکام لانے اور سکیورٹی کی ذمہ داری بالآخر افغان افواج کو سونپنے' طالبان کےساتھ مصالحت اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کےلئے صدر کرزئی کے پروگرام کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ اعلامیے کے مطابق افغانستان کےلئے 5 سال کا سکیورٹی منصوبہ منظور کر لیا گیا۔ ثناءنیوز کے مطابق عالمی برادری نے افغانستان کی امداد بدعنوانی کے خاتمے سے مشروط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کےلئے غیر ملکی ماہرین سے آڈٹ کرایا جائےگا۔ اعتدال پسند طالبان کو حکومت کی حمایت کرنے پر معاشرے میں باعزت مقام دیا جائےگا۔ کانفرنس میں تقریباً 70 ملکوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز کو سلامتی کی ذمہ داریاں سونپنا افغانستان سے نکلنے کی حکمت عملی نہیں ہے۔ بان کی مون نے کہا کہ افغان حکومت کو کرپشن کا خاتمہ کرنا چاہئے۔ برطانوی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے خطے میں امن کےلئے کردار ادا کرنے کا اہم موقع ضائع کیا۔
Post New Comment