لندن (آصف محمود سے) یو کے بارڈر ایجنسی نے گذشتہ روز پاکستانی خاتون کو 17 سال بعد برطانیہ میں قیام کی اجازت دے دی۔ 64 سالہ غلام صغریٰ نے برطانوی امیگریشن کی طرف سے قیام کی اجازت نہ ملنے اور اسے ڈی پورٹ کرنے کے خلاف برطانوی ہائیکورٹ میں کیس دائر کیا جس پر عدالت نے 10 مئی کو اس کی ملک بدری کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ غلام صغریٰ کے ساتھ برطانوی امیگریشن اور وزارت داخلہ کی طرف سے کی گئی زیادتیوں کی اور عدالتی فیصلے کی رپورٹ روزنامہ نوائے وقت/دی نیشن نے شائع کی جس پر ایکشن لیتے ہوئے برطانوی امیگریشن جسے اب یو کے بارڈر ایجنسی کہتے ہیں‘ نے مزید کارروائی کئے بغیر برطانیہ میں قیام کی اجازت دے دی۔ غلام صغریٰ کے وکیل بیرسٹر امجد ملک کو یو کے بارڈر ایجنسی کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ سیکرٹری آف سٹیٹ نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس کیس پر فیصلہ غلام صغریٰ کے حق میں دیا۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ فیصلہ برطانوی امیگریشن قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ غلام صغریٰ برطانیہ کے شہر راچڈیل میں اپنے بچوں جوکہ برطانوی شہری ہیں‘ کے ساتھ گذشتہ 17 برس سے رہ رہی تھی۔ غلام صغریٰ نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نوائے وقت/دی نیشن کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کے کیس کو منظرعام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
Post New Comment