لندن (آصف محمود سے) تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر محمد غالب نے گلگت بلتستان انتظامی پیکیج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیکیج بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کی مستقل تقسیم کی کوشش ہے جس سے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر نے کہا کہ گلگت اور بلتستان تاریخی و جغرافیائی اعتبار سے ریاست ہائے جموں و کشمیر کے اہم حصہ رہے ہیں جنہیں کشمیریوں کی مرض کے بغیر ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ محمد غالب نے کہا کہ کشمیری بھارت کے تسلط سے آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس موقع پر گلگت بلتستان کو ریاستہائے جموں و کشمیر سے علیحدہ کرنے سے بھارت کو کشمیر پر غاصبانہ تسلط کا جواز مل جائیگا۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والوں سے کہا کہ وہ اس فیصلے کیخلاف مزاحمت کریں اور کشمیر کی آزادی کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر اس پیکیج کو مسترد کر دیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر سکاٹ لینڈ کے صدر حنیف راجہ نے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر ایک کامیاب سفارتکاری اپنا رکھی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان اجتماعی قبروں سے بڑے واقعات کو بھی اقوام عالم کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔
Post New Comment