بھارت کی سرحد پر موجود خطرات نظرانداز نہیں کئے جا سکتے: مشرف

ـ 24 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ کشمیر سے فوج واپس بھیجنے‘ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ گورننس دینے اور لائن آف کنٹرول کو غیر موثر قرار دینے پر اتفاق ہو چکا تھا‘ آج میری حکومت ہوتی تو مسئلہ کشمیر کب کا حل ہو چکا ہوتا‘ پاکستان کو آج لیڈر شپ کی سخت ضرورت ہے جو عوام‘ بیوروکریسی اور فوج کو متحد رکھ سکے‘ اسی طرح ہی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ برطانوی ہاوس آف لارڈ میں لیڈر شپ کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی اہمیت کی حامل ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل تک ان قراردادوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ کشمیری مجاہدین تنظیمیں لشکر طیبہ‘ جیش محمد اور حرکت المجاہدین پاکستان میں بڑی مقبول ہیں کیونکہ انہیں عوامی حمایت حاصل ہے۔ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر ہر صورت حل کرنا ہو گا کیونکہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ آئی ایس آئی اور ”را“ کی جنگ 1948ءسے جاری ہے جسے اب ختم ہونا چاہئے۔ بھارت اور پاکستان کے تنازعات کی وجہ سے سارک جیسا موثر فورم بھی بے اثر ہو کر رہ گیا ہے‘ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دونوں ملکوں کی قیادتوں میں اخلاص‘ لچک اور جرات ہونی چاہئے کیونکہ کچھ لو اور کچھ دو کے بغیر یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا۔ القاعدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن کچھ عرصہ سے طالبان مضبوط ہوئے ہیں‘ پاکستان میں انتہا پسندی 11 ستمبر کے حملوں سے پہلے موجود تھی اسی لئے میں نے پاکستان کی 4 انتہا پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دیا جب 2002ءمیں بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہوئے تو امریکی وزیر خارجہ کولن پاول مجھے اور بھارتی قیادت کو روز فون کر کے ہمارا غصہ ٹھنڈا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر دباو ڈالا جاتا رہا کہ اصل خطرہ القاعدہ سے ہے‘ بھارت کے ساتھ مشرقی بارڈر پر فوج کیوں لگا رکھی ہے۔ بھارت کی سرحد پر اب بھی خطرات ہیں جن کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘ پاکستان میں مذہبی جہادیوں کی 10 سال تک حمایت کی لیکن یہ نہیں سوچا گیا کہ جب یہ لوگ سرد جنگ سے نکلیں گے تو ہمارا کیا ہو گا۔ دوسرا بڑا بلنڈر طالبان حکومت کو تقسیم کرنا تھا جبکہ تیسری غلطی 9/11 کے حملے کے بعد پختونوں کو طالبان سے علیحدہ نہ کیا جانا تھا۔ میں اس چیز کی ہمیشہ حمایت کرتا رہا کہ غیر شدت پسندانہ پختونوں کو طالبان سے علیحدہ کیا جائے لیکن آج تک ایسا نہ ہو سکا ہم نے خود پختونوں کو طالبان کی طرف جانے پر مجبور کیا‘ میں نے پختونوں کو طالبان سے الگ کرنے کی کوشش کی تو مجھ پر اور آئی ایس آئی پر دوغلہ ہونے کے الزامات لگائے گئے لیکن آج امریکہ یہ خود کر رہا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter