امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کئے تو پچھتائے گا: وزیر اطلاعات سرحد

ـ 22 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنماءمیاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اب شدت پسندوں کیخلاف کارروائی کو اس حد تک لیکر جانا ہے کہ انکا صفایا کردیا جائے۔ امریکہ نے اگر طالبان سے مذاکرات کئے تو اسے پچھتانا پڑیگا۔ پاک فوج کے اس کردار کیخلاف تھے جب ان شدت پسندوں کی حمایت کرتی تھی لیکن آج فوج کے کردار کو سلام پیش کرتے ہیں جو انہیں ختم کرنے کیلئے قربانیاں دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز روزنامہ نوائے وقت/ دی نیشن اور وقت نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ طالبان اسلحہ کے زور پر اپنے نظریات پھیلانا چاہتے ہیں۔ سرحد حکومت نے سب سے پہلے ان سے مذاکرات کئے جس پر سب نے تنقید کی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی کے 300 کے قریب عہدیدار شہید ہوئے لیکن ہم نے ان شدت پسندوں کے آگے ہار نہیں مانی نہ مانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پہلے ان شدت پسندوں کی حمایت کرتا رہا لیکن آج انکے خلاف کارروائی کرکے عوامی نیشنل پارٹی کے ہردلعزیز موقف کی تائید کررہا ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ انکی جماعت کی امریکہ سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں ڈالر ملے ہیں۔ عقل کا تقاضہ یہی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ملکر اور اسکو سپرپاور تسلیم کرتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کئے جائیں۔ امریکہ طالبان کو طاقت سمجھ کر ان سے مذاکرات پر آمادہ ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ کچھ لوگ بلیک واٹر کا نام لیکر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر بلیک واٹر ملکی مفاد کیلئے کام کررہی ہے تو اس مسئلے کو ہوا دینا غلط ہے لہٰذا حقیقت کو تسلیم کرنا ہی عقلمندی ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں جاری پاک فوج کا آپریشن کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ افغانستان میں ہونیوالے آپریشن مشترک کیلئے اتحادی افواج کے پاک افغان سرحد پر واقع چوکیاں خالی کرنے سے دہشت گرد مضبوط ہوں گے۔ شدت پسندوں کو پاکستان داخل ہونے کیلئے راستہ مل گیا تو حالات خراب ہونگے۔ کالا باغ ڈیم پر ایک سوال کے جواب میں سرحد کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ مردہ گھوڑا ہے جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا‘ پھر بھی نہ جانے چند لوگوں کی سوئی اس پر کیوں اٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پختونوں کی تباہی کا منصوبہ ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ سوئس کیسوں کو دوبارہ کھولنے کے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماءنے کہا کہ صرف آصف علی زرداری کی بات نہیں ہونی چاہئے۔ انکی جماعت کا موقف ہے کہ پاکستان بننے سے لیکر آج تک ہر کرپٹ کا احتساب کیا جائے‘ خواہ اس کا تعلق عدلیہ‘ حکومت اور فوج سے ہی کیوں نہ ہو۔ کسی ایک شخص کیخلاف احتساب کرنا ناانصافی ہوگی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں وفاق کی جانب سے دی جانیوالی امداد کے وعدوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبہ سرحد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ وزیراعظم پاکستان نے حال ہی میں 17 ارب روپے امداد دینے کا جو وعدہ کیا تھا اس میں سے ایک پیسہ بھی نہیں مل سکا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ رقم فوری طور پر ریلیز کرے تاکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کا کام شروع ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری کے امداد کے وعدے بھی تاحال پورے نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کیلئے 86 ارب روپے درکار ہیں۔ بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر بھارت کیخلاف کسی کے پاس ثبوت ہیں تو وہ یہ معاملہ سفارتی سطح پر اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ مثبت کردار ہے کہ آج ہماری فوج وزیرستان میں مصروف ہے اور وہ مشرقی سرحد پر حملہ نہیں کررہا۔ انہوں نے صوبہ سرحد میں پاکستانی طالبان کو بھارتی امداد کے سوال پر کچھ کہنے سے گریز کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter