ایک وزیر مقرر کرنے سے لاکھ برطانوی مسلمانوں کی حالت نہیں سنور سکتی: عبدالوہاب

ـ 19 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) برطانیہ میں گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے آپریشن پاتھ وے میں گرفتار ہو کر رہائی پانے والے پاکستانی طالب علم نے پاکستانی نژاد برطانوی وزیر بیرونس سعیدہ وارثی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ برطانوی معاشرہ اسلامی اقدار کا عملی نمونہ ہے۔ رہائی پانے والے پاکستانی طالبعلم عبدالوہاب نے سعیدہ وارثی کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نوائے وقت/دی نیشن کو بتایا کہ برطانوی شہری حمزہ شینواری کو 13دن بعد 21اپریل 2009ءکو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا جبکہ 10پاکستانی طلباءاس کیس اور الزامات میں عدم ثبوت ہونے پر رہا کرنے کی بجائے غیر منصفانہ طور پر ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا گیا جبکہ ہمارا قصور صرف یہ تھا کہ ہم پاکستانی مسلمان تھے۔ یہ اقدام برطانیہ کے دہرے معیار کو ثابت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم 20 لاکھ مسلمانوں کی حالت زار کےلئے ایک وزیر مقرر کرنے سے نہیں سنور سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سعیدہ وارثی کہتی ہے کہ پاکستان سے ہر شخص برطانیہ جانا چاہتا ہے جبکہ پاکستانی طالب علم برطانوی حکومت کے رویے اور اقدامات سے بے زار ہو چکے ہیں۔ اور وہ برطانیہ کو اپنے تعلیمی کیریئر کےلئے پچھلے دو سال میں طلبا کے خلاف کریک ڈا¶ن کی وجہ سے آئیڈیل نہیں سمجھتے۔ عبدالوہاب خان نے کہا کہ برطانیہ میں قانون' انصاف اور اسلامی اقدار کی اتنی ہی پاسداری ہے تو انکے خلاف چارج کر کے ٹرائل کیوں نہیں کیا گیا اور حضرت عمرؓ کی طرح انصاف کیوں نہیں کیا گیا جو نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونس کےلئے یہ لمحہ فکریہ اور سوالیہ نشان ہے جب 10مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکا تو برطانیہ میں مقیم 20لاکھ مسلمان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے منصفانہ سلوک اور آزادانہ انصاف کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter