لندن (آصف محمود سے) حکومت پاکستان کی طرف سے قانونی امداد کے لئے بلندبانگ دعووں کے پورے نہ ہونے، سست روی اور عدم توجہی سے تنگ آ کر برطانیہ میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار طالب علم عابد نصیر نے پاکستان حکام سے ملنے انکار کر دیا ہے۔ برطانیہ میں قید پاکستانی طالب علم کو امریکہ کی طرف سے حوالگی کے مطالبے کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ لندن میں موجود پاکستان ہائی کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکی مطالبہ کے بعد برطانوی دفتر خارجہ سے طالب علم عابد نصیر کے لئے قونصلر کی رسائی مانگی۔ برطانوی دفتر خارجہ نے ملزم عابد نصیر کے وکیل سے کہا کہ حکومت پاکستان کے نمائندے اس سے ملنا چاہتے ہیں جس کے جواب میں عابد نصیر کے وکیل نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے مدد کے کسی دعوے پر یقین نہیں کرتا اور نہ ہی کسی اہلکار سے ملنا چاہتا ہے۔ حکومت پاکستان نے اسے برطانیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا لہٰذا اسے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں چاہئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ہائی کمیشن کے سینئر اہلکار نے عابد نصیر کی امریکہ حوالگی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر جب برطانوی دفتر خارجہ سے استفسار کیا کہ کیا وہ کسی تیسرے ملک کے شہری کو امریکہ کے حوالے کر سکتے ہیں تو برطانیہ دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ان کا حوالگی مجرمان کا معاہدہ ہے لہٰذا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اس معاہدے کے تحت کسی بھی ملک کے شہری کو امریکہ کے حوالے کر سکتے ہیں۔ ملزم عابد نصیر کی امریکہ حوالگی کے متعلق فیصلہ برطانوی عدالت کرے گی اور یہ فیصلہ 65دن کے اندر اندر ہو جائے گا۔ برطانیہ میں قید پاکستانی طالب علموں احمد فراز خان اور عابد نصیر نے برطانیہ عدالت میں بیان دیا تھا کہ ان پر پاکستان میں تشدد ہونے کا خطرہ ہے لہٰذا انہیں پاکستان واپس نہ بھجوایا جائے جس پر لندن ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ خواہ یہ طالب علم عابد نصیر القائدہ کا رکن ہے یا قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے اسے پاکستان میں بھجوایا جائے گا۔ اگر امریکہ برطانوی عدالت میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ عابد نصیر حقیقی طور پر امریکہ میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے تو اس کی امریکہ حوالگی ممکن ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ گرفتار شدہ دوسرے طالب علم احمد فراز خان کے متعلق برطانوی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر وہ رضاکارانہ طور پر پاکستان واپس جانا چاہے تو اسے رہا کر کے واپس بھیج دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق احمد فراز خان رضاکارانہ طور پر پاکستان واپس آنے کے لئے تیار ہے۔ اور اس کی واپسی آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
Post New Comment