دو پاکستانی طالب علموں کی حوالگی کے امریکی مطالبے کے بعد طارق الرحمان اچانک لاپتہ

ـ 13 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (رپورٹ آصف محمود سے) امریکہ کی جانب سے دو پاکستانی طالب علموں کی حوالگی کے مطالبے کے بعد پاکستان آنیوالا طالب علم طارق الرحمان اچانک لاپتہ ہوگیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت / دی نیشن سے 5 روز قبل پاکستانی طالب علم طارق الرحمان نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے 8جولائی 2010ءکو چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کو اپنی غیر قانونی گرفتاری اور ماورائے عدالت امریکہ حوالگی کے پیش نظر از خود نوٹس لینے کی درخواست دی تھی اور اسے حفاظتی تحویل میں لینے کا کہا گیا تھا۔ طارق الرحمان نے چیف جسٹس پاکستان کو درخواست میں کہا تھا کہ چونکہ اسکے رہائشی علاقے میران شاہ میں ہائیکور ٹ نہیں ہے اس لئے وہ سپریم کورٹ سے رجوع کر رہا ہے طارق الرحمان نے نوائے وقت /دی نیشن کو یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں خطرہ ہے کہ انہیں ماورائے قانون و عدالت امریکہ کی چارج شیٹ پر ڈاکٹر عافیہ کی طرح امریکیوں کے حوالے نہ کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں اور برطانیہ میں زیر تعلیم رہے ہیں اگر کوئی مقدمہ چلنا ہے تو وہ پاکستان برطانیہ میں چلنا چاہیے وہ نہ امریکہ گئے ہیں نہ انہیں امریکہ سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی امریکہ سے انہیں انصاف کی توقع ہے جیسا کہ ڈاکٹرعافیہ کیس میں ہوچکا ہے۔ طارق الرحمان کے وکیل بیرسٹر امجد ملک نے نوائے وقت/ دی نیشن کو بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو علیحدہ درخواست بھجوائی جسکی کاپی برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو بھجوائی تاکہ انہیں علم ہو کہ جب تک سپریم کورٹ طارق الرحمان کے کیس کو نہ دیکھ لے اور امریکی حکومت کے شواہد برطانیہ کے طرز پر پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں یہ ثابت نہ کرسکیں کہ طارق الرحمان کے خلاف امریکہ میں دہشت گردی کا کیس بنتا ہے تب تک طارق الرحمان کی امریکہ حوالگی کی کوشش نہ کی جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان جو کہ 2007ءسے پوری دنیا میں از خود نوٹس کے حوالے سے مشہور ہو چکا ہے نے تا حال طارق الرحمان کی طرف سے امریکہ حوالگی کے خلاف دی جانیوالی درخواست پر کوئی کارروائی شروع نہیں کی۔ جبکہ درخواست گزار اس اثناءمیں لا پتہ ہوچکا ہے نوائے وقت /دی نیشن نے گزشتہ3 دنوں سے طارق الرحمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اسکا موبائل مسلسل بند اور ای میل کے ذریعے بھی رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک طارق الرحمان کی گرفتاری یا لا پتہ ہونے سے تا حال لاعلم ہیں۔ نوائے وقت/دی نیشن نے اُن سے رابطے کی کوشش کی لیکن وہ دستیاب نہ ہوسکے۔ رحمان ملک نے امریکی نشریاتی ادارے کو اپنی حالیہ انٹرویو میں امریکہ کی طرف سے حوالگی کے مطالبے کے بعد ایک طالبعلم عابد نصیر کو پہلے ہی برطانیہ میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter