دیرینہ مسائل حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت مےں امن قائم نہیں ہو سکتا: لارڈ نذیر

ـ 10 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز پارلیمانی گروپ برائے کشمیر کے چیئرمین اور ہاﺅس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی باتیں اچھا خیال ہے لیکن اس حوالے سے کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اعتماد سازی اور باہمی عزت سمیت دیرینہ مسائل حل نہ کئے جائیں۔ نوائے وقت / دی نیشن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی مےں امن کی شمعیں جلانے کی مشرف نے بھی کوشش کی تھی انہوں نے تو یہ بھی کہا تھا کہ ہمارا بھنگڑا اور شراب بھی ایک جیسی ہے لہٰذا امن ہونا چاہئے۔ جب تک بھارت افغانستان، بلوچستان، وزیرستان اور سوات مےں مداخلت بند نہیں کرتا اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔ آئی ایس آئی کو بدنام کیا جاتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی حمایت کرتی ہے لیکن ”را“ کا کوئی نام نہیں لیتا جو بلوچستان، کراچی اور وزیرستان مےں مداخلت کر کے عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان کا اگر کوئی مولوی امریکہ یا مغرب سے متعلق بات کرتا ہے تو اس پر شدید ردعمل سامنے آتا ہے لیکن بھارتی آرمی چیف کے مہم جویانہ بیانات پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ جنرل دیپک کپور کا بیان بھارتی فوج کے اندر سکیورٹی کے فقدان اور بھارت مےں سیاسی عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کی کوشش لگتی ہے۔ بھارتی آرمی چیف مغرب کو یہ بتانا چاہتے ہےں کہ وہ اکیلے ہی چین اور پاکستان سے نمٹ سکتے ہےں لیکن مغرب کو چین اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا علم ہے۔ بھارتی اور پاکستانی میڈیا گروپس کی طرف سے امن کی آشا پروگرام مغرب کا آئیڈیا ہے جس کےلئے امریکہ برطانیہ، نیٹو ممالک اور یورپ ڈالر اور یورو دے رہے ہےں۔ ان میڈیا گروپس کا انتخاب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔ مغرب اور امریکہ کے اس نام نہاد امن پروگرام کے خلاف ان کے ساتھ بہت بڑی حمایت حاصل ہے۔ امن کےلئے کی جانے والی مغرب نواز کوششوں سے پاکستان اور کشمیری آگاہ ہےں اور کسی کے مذموم عزائم اس آڑ مےں کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
لارڈ نذیر

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter