سوئس حکومت نے فیصلہ نہ بدلا تو مسلمان بنکوں سے رقوم نکلوا سکتے ہیں: لارڈ نذیر

ـ 10 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) برطانوی ہا¶س آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر نے کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں مساجد کے مینار تعمیر کرنے پر پابندی عائد کرنا اسلامو فوبیا کی شرمناک مثال ہے جس سے مسلمان کمیونٹی خدشات کا شکار ہوئی ہے۔ سوئس حکومت نے فیصلہ نہ بدلا تو مسلمان سوئس بنکوں سے اپنی رقوم نکلوا اور تجارتی تعلقات توڑ سکتے ہیں۔ مساجد کے میناروں کی تعمیر پر پابندی کے احکامات سے سوئس حکومت نے انسانی حقوق‘ یورپین کنونشن اور معاشرتی آزادیوں کی خلاف ورزی کی مرتب ہوئی ہے۔ لندن میں تعینات سوئس سفیر ایلکس لاٹن برگ کے نام خط میں لارڈ نذیر احمد نے میناروں پر پابندی کے احکامات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں مسلمان کمیونٹی کو ان کے بنیادی حقوق کے تحت کسی صورت بھی مذہبی عقائد ادا کرنے سے کسی صورت نہیں روکا جا سکتا۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں مقیم 3 لاکھ مسلمانوں کو سوئس حکومت کے مسلمان ملک لیبیا کے ساتھ برے تعلقات اور اس حوالے سے سیاسی کھیل میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سوئس حکومت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے ”مسلم کارڈ“ کھیلنا چاہتی ہے لیکن اس اقدام سے نفرت بڑھے گی اور تہذیبوں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوئس حکومت میناروں پر پابندی کے فیصلے کا ازسرنو جائزہ لے بصورت دیگر اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter