لندن، نیویارک (آصف محمود سے، آن لائن) امریکی حکام کی طرف سے حوالگی کے مطالبے کے بعد پاکستانی طالب علم طارق الرحمن نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پٹیشن دائر کردی ہے جس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اس کی ممکنہ حوالگی کے خلاف ازخود نوٹس لینے کا کہا گیا ہے۔ طارق الرحمن کی طرف سے دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے گو کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے لیکن کیا کسی پاکستانی شہری کو ماورائے آئین، عدالتی حکم نامے یا مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر کسی دوسرے ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ کیا برطانوی کراﺅن پراسیکیوشن سروس کے 21 اپریل 2009ء کے فیصلے جس میں طارق الرحمن نے کو عدم ثبوت ہونے پر دہشت گرد کے الزامات بری ہونے کے باوجود امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے کہا گیا ہے کہ کیا نیویارک کی عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ کر سکتی ہے جہاں کی جیوری پہلے ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں یکطرفہ فیصلہ دے کر بے انصاف کی مرتکب ہو چکی ہے۔ طارق الرحمن نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ جب پاکستان عدالت اسے اس حوالے سے قصوروار نہ ٹھہرائے اسے امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے جیسا کہ اس سے قبل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں کیا گیا۔ پاکستانی طالب علم نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو دی جانے والی پٹیشن میں یہ بھی موقف اختیار کیا ہے اسے امریکہ میں تشدد، غیرانسانی سلوک، ناانصافی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی وجہ سے انصاف کی توقع نہیں۔ اگر ان چیزوں کے باوجود اسے امریکہ کے حوالے کیا گیا تو یہ 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 4، 5، 9، 14، 15، اور 25 کی خلاف ورزی ہو گی۔ پٹیشن میں یہ بھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ پراسیکیوشن کی طرف سے اس طرح کے احکامات سے برطانوی عدالتوں کے ان فیصلوں جن میں اس طالب علم کو تمام الزامات سے بری قرار دیا گیا ہے پر انداز ہونے اور انہیں غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طارق الرحمن نے کہا کہ اس کے بنیادی حقوق پہلے بھی غصب کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اسے ڈر ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ طارق الرحمن کے مطابق امریکی عدالت نے اس کی حوالگی کے حوالے سے احکامات جاری کر کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی کیونکہ ان کا کیس اصولی طور پر یا تو پاکستان یا پھر برطانوی عدالت میں سنا جا سکتا ہے۔ پاکستانی طالب علم کے مطابق ایمل کانسی، خالد شیخ محمد اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ماورائے قانون تفتیش کے نام پر امریکہ کے حوالے کیا گیا جہاں ان پر تشدد اور غیرانسانی سلوک کیا گیا۔ طارق الرحمن کے وکیل بیرسٹر امجد ملک نے چیف جسٹس پاکستان سے استدعا کی ہے کہ طارق الرحمن کی ممکنہ حوالگی کو روکا جائے اور عدالت عظمیٰ اس وقت تک طارق الرحمن امریکہ کے حوالے ہونے نہ دے جب تک عدالت اس بات پر مطمئن نہ ہو کہ طارق کے خلاف شواہد کی بناء پر امریکہ میں ممکنہ دہشت گردی کا کیس بنتا ہے اور اس کا ٹرائل پاکستان میں نہیں چلایا جا سکتا۔ ایسی صورتحال میں حوالے کرنے سے پہلے اس پاکستانی شہری اور آئینی قانونی حقوق کے حوالے سے واضح ہدایات دے تاکہ طارق الرحمن اپنا وکیل مقرر کر سکے۔ اس پر ذہنی تشدد نہ ہو اور اسے منصفانہ عدالتی ٹرائل ملے جس سے انصاف ہوتا نظر آئے۔
Post New Comment