دہشت گردی : امریکہ کا پاکستان سے طالبعلم طارق الرحمان اور القاعدہ رکن صہیب کی حوالگی کا مطالبہ

ـ 9 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) امریکی حکام نے پاکستان سے برطانیہ مےں گذشتہ سال انسداد دہشت گردی آپریشن میں گرفتار ہونے کے بعد رہائی پا کر پاکستان آنےوالے طالب علم طارق الرحمان اور اسے ای میل کرنے والے القاعدہ کے مبینہ رکن صہیب کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے اس سے قبل برطانوی حکام نے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے ملزم عابد نصیر کو گذشتہ روز مانچسٹر سے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا، عابد نصیر اور دیگر پاکستانی طالب علموں پر الزام تھا کہ یہ مانچسٹر مےں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا چاہتے تھے ان کے ساتھی پاکستان سے بھیج دیئے گئے جبکہ عابد نصیر اور شعیب کو پاکستان مےں ممکنہ تشدد کے پیش نظر واپس بھیجنے کے خلاف فیصلہ دیا، امریکی محکمہ انصاف نے گذشتہ روز کہا کہ ملزم عابد نصیر، طارق الرحمان اور ایک دوسرا پاکستانی شہری صہیب امریکہ مےں دہشت گردی کے منصوبے مےں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شریک ہےں، بروکلین فیڈرل کورٹ نے ان افراد کی طلبی کے احکامات جاری کر دیئے۔ حکم نامے کے مطابق طارق الرحمان برطانیہ مےں القاعدہ کے کمانڈر راشد رﺅف کے دہشت گردی کے سیل مےں بھرتی ہوا تھا، امریکی عدالت کی طرف سے جاری کردہ وارنٹس مےں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ مےں پکڑے جانےوالے پاکستانی طالب علم عابد نصیر امریکی اور برطانوی شہروں پر دہشت گرد حملوں کی سازش مےں شریک رہا ہے، یہ لوگ امریکہ پر دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے افغان شہری نجیب اللہ زازی سعودی شہری شکری الجمعہ اور صالح الصومالی سے رابطے مےں تھے۔ طارق الرحمان نے نوائے وقت / دی نیشن کو بتایا کہ اسے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے شدید خطرات ہےں، انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بے قصور ہے اور اگر اس کے خلاف کوئی ثبوت یا کیس ہے تو ان کا ٹرائل پاکستان یا پھر برطانیہ مےں ہونا چاہئے۔ طارق الرحمان کے وکیل بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ اگر پاکستانی حکام نے طارق الرحمان کو امریکہ کے حوالے کیا تو اس کے ساتھ بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسا سلوک کیا جاسکتا ہے۔ یہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter