تازہ ترین:

عافیہ صدیقی کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کیلئے تیار ہیں ایسوسی ایشن آف پاکستان لائرز

ـ 7 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) برطانیہ میں پاکستانی نژاد وکلا، بیرسٹروں اور جموں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستان لائرز نے کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان کہے تو وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کیلئے تیار ہیں۔ تنظیم کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے نوائے وقت /دی نیشن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نائن الیون کے متاثرین کی جیوری کے سامنے کسی کو بھی القاعدہ کا لیڈر یا دوست بنا کر پیش کرنا اور پھر ان سے سوال کرنا کہ یہ مجرم ہے یا بے قصور تو جیوری اس سوال کا منصفانہ جواب نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وکلا یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ڈاکٹر عافیہ کو قصور وار ٹھہرانے سے انصاف کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہو سکتے جبکہ یہ یورپین کنونشن کے آرٹیکل 6کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ بیرسٹر امجد ملک کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی 2003ءسے 2008ءتک گمنامی، گرفتاری کا طریقہ کار اور ڈاکٹر عافیہ کی طرف سے تشدد کی الزامات کے ساتھ ساتھ اسے بروقت طبی امداد اور قونصلر تک رسائی نہ دینا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے جن کے جوابات ڈاکٹر عافیہ کے ٹرائل سے قبل بہت ضروری ہیں۔ امجد ملک نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں خود تسلیم کیاہے کہ انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو ماورائے عدالت امریکہ کے حوالے کر کے لاکھوں ڈالر کمائے۔ یہ جاننا باقی ہے کہ کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی ان میں شامل نہیں تھیں ۔ ایسوسی ایشن آف پاکستان لائرز کے چیئرمین نے کہا کہ اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوکراچی سے گرفتار کیا گیا تھا تو سپریم کورٹ آف پاکستان کی اس کیس میں خاموشی معنی خیز ہے جو حکومت پاکستان کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان لا کر اس کا ٹرائل کرنے کیلئے حکم جاری کر سکتی ہے۔ بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ اگر ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا تو پھر یہ کیس افغانستان میں چلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کا کیس امریکی نظام عدل کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس طرح امریکی سپریم کورٹ نے 1954ءمیں براﺅن بنام بورڈ آف ایجوکیشن کیس میں سیاہ فام لوگوں کو انکا حق دیا اس طرح آج مسلمان امریکی عدالت سے اپنا حق مانگتے ہیں۔ صدر اوباما اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اور ڈاکٹر عافیہ کی حراستی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمان کمیونٹی کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے ڈاکٹر عافیہ کیلئے معافی کا اعلان بھی کر سکتے ہیں جس کا مسلمان کمیونٹی خیر مقدم کرے گی۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter