لندن (آصف محمود سے) سکھوں کی عالمی تنظیموں نے بھارتی وزیر داخلہ چدم برم پر شدید احتجاج کیا ہے جس میں انہوں نے گذشتہ ہفتے اپنے دورہ پنجاب کے دوران کہا تھا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک سے دستبردار ہو جائیں تو ان کی بلیک لسٹ قیادت کو بھارت آنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ کونسل آف خالصتان کے سربراہ امریک سنگھ سہوٹا، سکھ فیڈریشن برطانیہ کے سربراہ امریک سنگھ گل اور دل خالصہ کے سربراہ منموہن سنگھ خالصہ نے گذشتہ روز اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہ بھارت کو واضح کر دینا چاہئے کہ سکھ قوم کبھی بھی علیحدہ سکھ ریاست کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ خالصتان کی آزادی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی حقیقی اور سچا سکھ اپنے حق خود ارادیت کے پیدائشی حق سے دستبردار ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سکھ رہنما¶ں نے خبردار کیا کہ چدم برم نے راجیو گاندھی کے ساتھ مل کر 20 ہزار سکھوں کا قتل عام کیا جس پر وہ چدم برم سمیت دیگر ذمہ داروں عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کردیں گے۔ سکھوں کی نمائندہ تنظیموں کے سربراہوں نے کہاکہ بھارتی عدلیہ نے آج تک سکھوں کے قتل عام میں ملوث لوگوں کو سزا نہیں دی۔ بھارت میں موجود سکھ لیڈروں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے امریک سنگھ سہوٹا، منموہن سنگھ خالصہ اور امریک سنگھ گل نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ آزادی خالصتان کا مطالبہ غیر قانونی نہیں لہٰذا چدم برم ہوش کے ناخن لیں انہوں نے کہاکہ دنیا میں جمہوریت کا دعویدار بھارت آزاد خالصتان کے قانونی اور سیاسی مطالبے کو کیوں دبانا چاہتا ہے سکھ رہنما¶ں نے کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ کہ اس کی سرحدوں کے اندر سول اور سیاسی حقوق نہیں دئیے جاسکتے اقوام متحدہ کے 1966ءکے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت سے انکار پر کشمیر ناگالینڈ، آسام، منی پور، بوڈو لینڈ میں خونی فسادات ہو سکتے ہیں۔
Post New Comment