لندن (آصف محمود سے) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مغرب اگر سمجھتا ہے کہ پاک فوج جمہوری حکومت اور اس کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتی تو اس کی یہ سوچ غلط ہے‘ پاک فوج اور حکومت میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں‘ دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد پر پاکستان میں سوالات اٹھائے جاتے ہیں کیونکہ پاکستانی قوم اتحادیوں کے ڈرون حملوں جیسے ایکشن کو تسلیم نہیں کرتی۔ ”دی گارڈین“ کے لئے لکھے جانے والے آرٹیکل میں صدر زرداری نے کہا کہ مغرب اور امریکہ کو پاکستانی قومی کے تحفظات اور تشویش پر غور کرنا چاہئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں لیکن جب دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف کئے جانےوالے ہمارے فیصلوں کو ٹررننگ پوائنٹ کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم فوجی اور معاشی وجوہات کی بنیاد پر اس لڑائی سے پیچھے ہٹ جائیں گے وہ مجھے اور میرے ملک کو ”انڈر اسٹیمیٹ“ کر رہے ہیں‘ حکومت نے ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے وہ مارشل پلان ترتیب دیا ہے جو جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ نے تریتب دیاتھا جس میں مضبوط معیشت اور سیاسی و عسکری استحکام کے لئے اقدامات کئے گئے‘ جو طاقتیں ڈکٹیٹروں کے ساتھ خوش تھیں انہوں نے پاکستان میں جمہوری تبدیلی روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ ہم نیا پاکستان تعمیر کرنا چاہتے ہیں‘ اس کے معاشی مسائل کے لئے کثیر المدتی حل تلاش کریں گے۔ جب وہ صدر منتخب ہوئے تو ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا‘ معیشت تباہی کے دھانے پر تھی‘ ڈکٹیٹر شپ کا 10 سالہ اثر زائل کرنے کے لئے جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت تھی جن میں سے بہت سے اقدامات غیر مقبول بھی تھے‘ دوررس نتائج کے لئے غیر مقبول فیصلے کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر ملک چلا رہے ہیں کوئی سیاسی مہم نہیں چلا رہے۔ جمہوری حکومت کی بہتر پالیسیاں بہتر سیاست کی بنیاد بنیں گی۔ تعلیم‘ زراعت‘ توانائی اور معیشت میں خودکفیل ہونا ہو گا‘ دہشت گرد پاکستان کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ملک کو جانی و مالی نقصان ہوا۔ آئی ایم ایف کے قرضے کی چوتھی قسط کا حصول کامیابی ہے کیونکہ آئی ایم ایف کرپٹ حکومتوں کیساتھ پارٹنر شپ نہیں کرتا۔ کیا ورلڈ بنک‘ یورپی یونین اور امریکہ کی تعریف کم رپورٹ ہوتی ہے۔ ہماری جمہوریت کا تسلسل مغرب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ آمروں کا ساتھ دینے والوں کو ملک میں تبدیلی اچھی نہیں لگتی۔ مسلح افواج آئین کی پابند ہیں۔ اتحادی فوج کے ڈرون حملوں پر تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔
Post New Comment