برطانیہ میں سینکڑوں شادی شدہ پاکستانی خواتین گھریلو تشدد کا شکار

ـ 1 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (آصف محمود سے) برطانیہ میں سینکڑوں شادی شدہ پاکستانی خواتین گھریلو تشدد کا شکار اور شدید پریشان ہیں اس لےے ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی مظلوم خواتین کو شوہروں اور سسرالیوں کے تشدد سے بچانے کے لےے قوانین میں ترامیم کی جائیں۔ برطانوی وزارت داخلہ کے قوانین کے مطابق جن خواتین کی شادی 2 برس کے دوران ہی ٹوٹ جاتی ہے ان کو تشدد کے واقعات کی فوری اطلاع پولیس یا ڈاکٹر دینی چاہےے۔ لیکن انگریزی زبان پر عبور نہ ہونے کے باعث ایسی خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2008ءاور 2009ءکے دوران وزارت داخلہ کو گھریلو تشدد کی 1410 درخواستیں موصول ہوئیں اور ان خواتین نے شوہروں سے علیحدگی کے بعد حکومت کو درخواست کی کہ انہیں برطانیہ میں مستقل سکونت دی جائے لیکن ان میں سے صرف 440 کو شہریت دے دی گئی جبکہ دوسری خواتین کو ملک بدر کر دیا گیا۔ پاکستانی لائرز کے سربراہ امجد ملک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرملکی شادی شدہ خواتین کو بھی وہی حقوق دیئے جائیں جو آزاد دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ موجودہ قوانین غیر مناسب ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter