لندن (آصف محمود سے) معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت نے عالمی برادری کی طرف سے لندن کانفرنس میں طالبان کے ساتھ مصالحتی کوششوں کے اعلان کی مخالفت کی ہے اور اسے پاکستان کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے تعبیر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق القاعدہ کیخلاف قبائلی علاقوں میں آپریشن کے آغاز کے بعد پاکستان کے افغانستان کیساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں جس سے بھارت کو سخت تشویش لاحق ہے۔ بھارت کو ڈر ہے کہ اگر طالبان کےساتھ مصالحتی کوششیں کامیاب ہوگئیں تو اسلام آباد پسند قوتیں طاقتور ہوں گی جو اسکے شمالی اتحادی کےساتھ تعلقات اور اثرورسوخ کیلئے براہ راست خطرہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے مصالحتی عمل کو ناکام بنانے کیلئے کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ ذرائع نے نوائے وقت/ دی نیشن کو بتایا کہ بھارت کو افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی پاکستان میں ٹریننگ پر بھی شدید اعتراض ہے کیونکہ افغانستان آپریشنل مقاصد کیلئے اپنی فوج ہندوستان نہیں بھجوانا چاہتا۔ بھارت اس عمل کو بھی پاکستان کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی طرف ایک اہم قدم تصور کررہا ہے اور اس نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کے ایسا کرنے سے دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ مذاکرات کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ پاکستان نے لندن کانفرنس میں عالمی برادری سے کہا تھا کہ بھارت پاکستانی طالبان کو اسلحہ اور پیسہ فراہم کررہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔
Post New Comment