صحرا نامہ ۔۔۔ عبدالشکورابی حسن
پاکستانی قوم میں دیگر صلاحیتوں کے ساتھ اللہ تعالی نے بے پناہ اخوت محبت اور بھائی چارہ کی مٹھاس بھری ہوئی ہے کسی کو مصیبت میں دیکھ پاکستانی قوم خود بھی دکھی ہوجاتی ہے اورحتی الامکاں اس کی مدد کرتی ہے یہ پاکستانی قوم میں جذبہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کے مظالم اور بربرےت ہویا کشمیر میں بھارتی فوج کی یلغار بوسینیا اور شیستان میں مسلمانوں کی نسل کشی پر پاکستانی قوم اس کو اپنا دکھ سمجھتی ہے لیکن ایک آمر نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دے کر پاکستانی قوم کے جذبات کو مجروح کردیا جبکہ حدیث مبارکہ ہے اورنبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ایک کوتکلیف ہوتو اس کا درد سب محسوس کرتے ہیں مدینہ کی ہجرت کے وقت مسلمانوں نے مہاجر مسلمان کو اپنے گھروں میں نہ صرف پناہ دی بلکہ بھائی چارے کی عمدہ مثال قائم کر دی۔ کسی مسلمان پر کوئی آفت مصیبت آئے پاکستانی قوم ایسی ہے جو ہمیشہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوجاتی ہے جب پاکستان بنا تو پاکستان نے ایک قوم کو بھی جنم دیا جو پاکستانی قوم کہلائی لیکن ہمارے سیاستدانوں نے قوم کو ہمیشہ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا آج قوم ان سیاست دانوں سے اُن کے فرائض کا تقاضا کرتی ہے۔ من حیث القوم دنیا کے کسی حصہ میں مسلمان کو تکلیف ہو پاکستان کے سپوت وہاں پہنچ جاتے ہیں آج بھی پاکستانی قوم پر قدرتی آفت آئی ہے تو پوری قوم اس کے دکھ درد میں برابرکی شریک ہے اور دل کھول کر مدد کررہے ہیں کوےت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے اکھٹے ہوکر پاکستان میں ایک ہسپتال بنانے کا خواب دیکھاہے جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے فنڈز اکٹھاکرنا شروع کیا ہے جس کے سلسلے میںگذشتہ دنوں فرینڈز ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتما م ایک تقریب کا انعقاد کیا گےا جس کی صدرات ٹرسٹ کے چیئرمین ملک نورمحمد جبکہ مہمان خصوصی سفیر پاکستان افتخار عزیز عباسی تھے تقریب میں پاکستان کی نمائندہ سیاسی ،دینی ،سماجی اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز قاری سعید الرحمان کی تلاوت قرآن حکیم سے کیاگےا تلاوت کے بعد ڈاکٹر ظفرشیخ نے فرینڈز ویلفیئر ٹرسٹ کے اغراض مقاصد سے حاضرین کو آگاہ کیا انہوں نے کہاکہ کوےت میں جذبہ جنون رکھنے والوں نے ایک خواب دیکھا کہ پاکستان میںجو غریب لوگ بغیر علاج کرائے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں ان کی کسی طرےقے سے مدد کی جائے ۔ ان پاکستانیوں نے ایک فرینڈز ویلفیئر ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان میں ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا الحمد اللہ ان دیوانوں کا خواب اب پایہ تکمیل تک پہنچنے کو ہے اورانہوںنے ہسپتال کی بنیاد راولپنڈی کے پیرودھائی کے علاقہ میںرکھ دی ہے جہاں غریبوں کا علاج مفت کیا جائے گا۔ اس موقع پر سفیر پاکستان افتخار عزیز عباسی نے کہاکہ میں ان دنوں پاکستان تھا تو ملک نورمحمد نے مجھے کہاکہ ہم کوےت کے چند دوست مل کر اپنے وطن عزیز میں اپنے ان ہم وطنوں کے علاج معالجہ کے لئے ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں کیونکہ آپ کوےت میں پاکستان کے سفیر ہیں اور پاکستان میں کوےت کے سفیر نواف العنزی ہیں آپ دونو ں مل کر اس کی سنگ بنیاد رکھیں تاکہ اقوام عالم میں پاک کوےت دوستی کے عملی ثبوت کا پیغام بھی جائے۔ سفیر پاکستان نے کہاکہ پاکستان کی دھرتی ہماری ماں ہے اورہم اس کے سپوت ہیں ہمارافرض بنتاہے ہم اپنی دھرتی ماں کی خدمت کریں مجھے انتہائی خوشی ہوئی کہ کوےت میں مقیم پاکستانی اپنے ملک میں اپنے ہم وطنوں کا دل میں دکھ درد رکھتے ہوئے ان لوگوں کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت کئی مصیبتوں میں گھرا ہوا ہے حکومت اپنے وسائل بروئے کار لا رہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام اور اوورسیز پاکستانیوں کا حق بنتاہے کہ وہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں۔ ملک نور محمد اوران کے رفقاءمبارک باد کے مستحق ہیں جنہوںنے ہسپتال بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے اور مجھے امید ہے یہ ہسپتال جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ اس موقع پر ملک نور محمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں اور میرے ساتھیوں نے جو خواب دیکھا تھا اسکی تعبیر مل رہی ہے اس کی سنگ بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اس پر جو اخراجات اٹھ رہے ہیں اس میں اللہ تعالی کی مدد بھی شامل رہی اور آپ دوست جس طرح ہمارے ساتھ تعاون کررہے ہیں اس پر ہم سب شکرگذار ہیں مجھے انتہائی دکھ سے کہنا پڑ رہاہے کہ آج ہمارا ملک گوناگوں مسائل میں گھرا ہواہے اور قدرتی آفات نے پاکستان کانقشہ بدل دیاہے ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ اللہ تعالی ہم پر اور ہمارے ملک پر رحم کرے اور ان آفتوں کا ازالہ ہو اور ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں۔ ہم اللہ تعالی کے ہر حال میں شکر گذارہیں وہ ہمیں ہمت عطا کرے ہم اپنے ملک اور عوام کے لئے کچھ کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ فرینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”فرینڈز ہسپتال“ غریب، نادار اور زکٰوة کے مستحق مریضوں کے لئے ہو گا جہاں علاج کے ساتھ ساتھ لیبارٹری، الٹرا ساﺅنڈ، کڈنی ڈائلیسز سینٹر، ایکسرے، آپریشن تھیٹر، ای سی جی، سی ٹی سکین، لیبر روم اور فرینڈز ایمبولنس سروس کی سہولت ہو گی۔ فرینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کا قیام 2005ءمیں ہوا۔ اپنے قیام سے اب تک ٹرسٹ نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں چار ہیلتھ سینٹرز بھی قائم کئے جہاں کوالیفائیڈ ڈاکٹر کی زیرنگرانی فری مشورے اور علاج کیا جا رہا ہے۔ سال 2005 سے تا حال پاکستان میں ٹرسٹ ہیلتھ سینٹرز پر 75 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گےا۔ 2005 سے تاحال کوےت میں 8 میڈیکل کیمپس لگائے گئے جن میں ساڑھے 5 ہزار سے زائد مریضوں نے پاکستانی ڈاکٹر صاحبان سے اپنے مرض کے بارے میں معلومات اور مشورے کئے۔ مختلف بیماریوں کے تقریباً ساڑھے 5 ہزار کتابچے عوام میں فری تقسیم کئے گئے عام پبلک اور نوجوانوں کے لئے 13 لیکچرز اور سیمینار کا اہتمام کیا گےا۔ 2005ءمیں ٹرسٹ نے زلزلہ زدگان کے لئے خدمات سرانجام دیں اور جولائی 2009ءمیں سوات، مالاکنڈ کے متاثرین کی مالی امداد کے لئے راولپنڈی ہیلتھ سینٹر میں کیمپ کا انعقاد کیا گےا۔ انہوں نے کہاکہ اپنے اس ہدف اور عزم کے ساتھ تما م پاکستانی کمیونٹی سے درخواست ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور فکری نظریات کو بالائے طاق رکھ کر اس نیک کام میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کے معیاری مراکز قائم کرکے عوام کے اس پسماندہ طبقے کی مدد کی جا سکے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی کے مخیر شخصیات نے 30 ہزار دینار کا فنڈ دیا جبکہ اس ہسپتال کی تعمیر کا ہدف 90 ہزار دینار کوےتی ہے جو مرحلہ وار پورا کیا جائے گا۔ ہسپتال کی تعمیر اور فرینڈز ویلفیئر ٹرسٹ میں ملک نور محمد، ڈاکٹر ظفر شیخ، ڈاکٹر افتخار نیازی، ڈاکٹر شجاع الدین، قائم شاہ علی سرگرم عمل ہیں جنہیں اپنے متعدد ساتھیوں کا براہ راست یا بالواسطہ تعاون بھی حاصل ہے۔
Post New Comment