اللہ تعالی بیٹی دے تو اسے شرم وحیا بھی دے جو ماں باپ اورخاندان کے تقدس کو پامال نہ کرے بیٹاں اللہ تعالی کی رحمت ہوتی ہیں اورنبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے اپنی دوبیٹیوں کی اچھی تربیت کرکے انہیں بیاہ دیا وہ جنت کا حق دار ہے ۔ماں باپ کی خواہش ہوتی کہ وہ اپنی اولاد کو اچھی سی اچھی تربیت دیں تاکہ ان کا مستقبل بہتر ہوسکے بیرون ممالک میں رہنے والے ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ان کے زیر سایہ رہ کرتعلیم حاصل کرسکیں اوران کی اچھے طریقے سے پرورش کی جاسکے لیکن وہ اولاد ماں باپ کے لئے شرم کا باعث بن جاتی ہے جو راہ روی کا شکار ہوجاتی ہیں اور ماں باپ کی عزت کو خاک میں ملادیتی ہے ایسی ذلت ورسوائی دیکھ کرماں باپ کہنے پر مجبورہوجاتے ہیں کہ ایسی اولاد سے بہتر ہے کہ آدمی بے اولادہی رہے۔گذشتہ 45دنوں سے کویت میں ایک پاکستانی20سالہ لڑکی مریم فضل کی حرکت نے جہاں اپنے ماں باپ اورخاندان کی عزت کو ماپال کیا وہی پاکستان کے نام پر ایسا دھبہ لگا دیا ہے جو مدتوں تک نہیں دھل سکتا کیونکہ کویت میں سب سے پہلا قتل بھی ایک پاکستانی نے کیا۔ آج جب بھی قتل کی واردات ہوتی ہے تو پہلی مثال پاکستانی کی دی جاتی ہے کیونکہ کویت میں سب سے پہلی پھانسی بھی اسی قاتل کو ہوئی تھی آج چالیس سال کے بعد بھی پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے ہیں۔ جواں سال لڑکی مریم فضل نے جوحرکت کی ہے مریم فضل کے گھر سے غائب ہونے کے بعد کویت اور پاکستان کی پریس نے اس ایشو کو بھرپورطریقے سے اٹھایا اورمیڈیانے اپنا کردارادا کیا کہ پاکستانی لڑکی کا قتل اورزناء بالجبر ہوا اور اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے اوراس کی لاش کو گندگی کے ڈھیر میں چھپا دیا ہے کویت پولیس نے کویت بھر کے گندگی کے ڈھیر چھان مارے جہاں سے ایک مسخ شدہ لاش ملی جسے مریم فضل کی لاش سمجھ لیا گیالیکن وہ کوئی اورہی تھی جس سے پولیس نے دن رات ایک دیا اورایک مصری باشندے علاء نے کہا اس نے لڑکی کے ساتھ شیطانی کھیل کراسے قتل کردیا لیکن کویت میں علاء کے والد اور رشتہ داروں نے کویت میں مصر کے سفارت کودرخواست دی کہ ہمارا آدمی مجنون (پاگل) ہے اوراس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں اس نے جان بوجھ کر یہ قتل اپنے ذمہ لے لیا ہے پولیس نے علاء کا دماغی کا معائنہ کرایا جو ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے علاء کو پاگل قرار دے دیا لیکن پولیس کی تفتیش تھمی نہیں تھی پولیس اپنے طورپر تفتیش شروع کررکھی تھی ۔پولیس مریم فضل کو ڈھونڈنے میں کوکسر نہیں چھوڑی مسلسل ڈیڑھ ماہ کی کوشش کامیاب ہوگئی جب مریم فضل نے اپنے ٹیلی فون سے کسی اپنے رشتہ دار کو کال کی جس سے مریم فضل کے زندہ ہونے کا ثبوت مل گیا اور کویت کی خفیہ پولیس نے مریم فضل کوڈھونڈ لیا اوراس اپارٹمنٹ پر چھاپہ ماراجہاں وہ اپنے آشنا کے ساتھ چھپی ہوئی تھی اور وہاں سے آشنا کے ساتھ گرفتار کرلیا اورعدالت میں پیش کردیا کویت کے عربی اور انگلش اخبارات نے جہاں پہلے مریم فضل کے قتل کی خبریں شائع کی تھیں آج وہی اخبارات مریم فضل کے زندہ ہونے پر (متقولہ و زندہ ) کی خبریں شائع کررہے ہیں جس سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے ہیں کیونکہ 20سالہ لڑکی مریم فضل کے قتل کا ڈراپ سین ہوگیا لڑکی زندہ اپنے آشنا کے ساتھ گرفتارہوگئی ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ کویت کے علاقہ خیطان میں پاکستانی لڑکی مریم فضل جو گذشتہ کئی روز سے روپوش تھی اوراسے قتل کرنے کے شبہ میں ایک مصری باشندے علاء کو حراست میں لے رکھا تھا جس نے قتل کا اقبال جرم کرلیا تھا کہ اس نے لڑکی کو شیطانی کھیل کے بعد قتل کردیا تھا جس نے پولیس نے مصری باشندے کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کی اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے اس سے قبل بھی اپنے ملک (مصر) میں کئی بچوں کے ساتھ شیطانی کھیل کھیلا لیکن کویت میں مصر کے سفارت خانہ کے عملہ نے اسے پاگل اور ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے سے اسے ماہرین کے پاس بھیجنے کی درخواست کی جس پر اس کا معائنہ کرایا گیا کہ مصری باشندہ ایسی حرکات کرتا ہے اوراس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں جس پر پولیس کو مزید تفتیش ہوئی کہ آیا جس لڑکی نعش برآمد ہوئی وہ کون ہے اور مریم فضل قتل نہیں ہوئی تو وہ کہاں گئی پولیس نے خفیہ طورپر اس کی نگرانی شروع کردی اوراس کے آشنا تجمل کو حراست لے لیا جس پرتفتیش کی جاتی رہی پولیس کو بعدازاں معلوم ہوا کہ مریم فضل زندہ ہے اور وہ ابوخلیفہ کے علاقہ کے علاقہ میں اپنے ایک آشنا کے ساتھ کرایے کے اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہے پولیس نے اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارکر مریم فضل اوراس کے پاکستانی آشنا کو گرفتار کرلیا اس طرح مریم فضل کے قتل کا ڈراپ سین ہوگیا ۔پولیس نے مزید تفتیش شروع کردی ہے ۔یادرہے تقریباًڈیڑھ ماہ قبل مریم فضل گھر سے شاپنگ مال پر خریداری کا کہہ کر گئی تھی اور وہ غائب ہوگئی تھی اور اس کا کوئی اتہ پتہ نیں مل رہاتھا ایک مصری باشندے علاء کو حراست میں لیا جس نے اقبال جرم کیا کہ اس نے لڑکی کو قتل کیا لیکن جب مصری باشندے کا معائنہ کیا گیا وہ ذہنی مریض نکلا جس سے پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا اور مریم فضل کے آشنا کو حراست میں لے لیا جو پاکستان چلا گیا تھا جبکہ مریم فضل کا انکل بشیر باربار کہتا رہاکہ لڑکی زندہ ہے اور وہ کہیں روپوش ہے یا اسے فروخت کردیا گیا ہے کویت پولیس نے بڑی مہارت کے ساتھ اس کیس کو نمٹا دیا ۔مریم فضل کے اس فعل سے پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی کے
وقار کوشدید دھچکہ لگا ہے ۔کویت کی عدالت میں مریم فضل کو پیش کردیا گیا جہاں اس نے اپنے بیان میں کہاکہ اس کے گھر والے میری شادی میرے دوست کے ساتھ نہیں کررہے تھے جس کی وجہ سے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھا یا تھا لیکن عدالت نے اس سے پوچھا کہ تم مصری باشندے علاء کو جانتی ہوجس پر مریم نے کہاکہ نہیں عدالت نے مریم فضل سے پوچھا کہ تم اتنے دن اپنے آشنا کے ساتھ رہی اور تم زناء بالرضا کی مرتکب ہوئی ہو جس پر مریم فضل خاموش رہی اورعدالت نے مزید سوالات وجوابات کے بعد مریم فضل اوراس کے آشنا سے مزید تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کردیا اور مصری باشندے علاء کو اس کیس سے بری کردیا عدالت میں علاء والد رشتہ داروں نے اس کی بریت پر اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے اور اپنے فرزند کو لے کر گھر چلے گئے ۔دنیا بھر میں جہاں امریکہ میں مقید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مسلمان ممالک میں خفیہ مہم شروع کررکھی تھی مریم فضل کی حرکت نے پاکستانیوں کو شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں دیا اورپاکستانیوں کے سرشرم سے جھکادئیے ہیں ۔
Post New Comment