صحرا نامہ ۔۔۔عبدالشکور ابی حسن

ـ 2 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام زندہ ہوتاہے ہر کروبلا کے بعد ۔اس وقت مسلمان ممالک جس گوناگو مسائل سے دوچار ہے اس میں اہم اسلام کے سنہری اصولوں سے روگرادنی ہے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان میں بھائی بھائی ہیں دوجسم یک جان ہیں لیکن ہم مسلمانوں نے مسلمانوں کو بھائی کیا بنانا ہے اپنے ماں جائے بھائی کو ماننے میں بے پروا ہوچکے ہیں کیونکہ مسلمان اس وقت دنیاوی دولت کے پوجاری بن چکے ہیں ایک دوسے کے حق پر ڈاکہ ڈالا معمول بنالیاہے جب سے مسلمان دنیاوی دولت کی دوڑ میں شامل ہوا وہ اپنے دین کو بھلا بیٹھا ہے اوردولت کے بدلے اپنی زمین ہی اپنا جسم ،ذہن تاکہ وطن تک گروری رکھ دیا اورآج مسلمان اپنے ہی وطن میں غلامی کی زندگی بسر کررہاہے وسائل ہونے باوجود مسائل پیداحل نہیں ہورہے ہیں جس کی ایک ہی وجہ ہے ہم نے اپنے رب سے ناطہ توڑ کر غیروں کے آگے سرخم کرلیاہے اوراپنی کھوئی ہوئی عزت کو دولت ہونے کے باوجود دوبارہ حاصل نہیں کرسکتے ۔مسلمانوں کے کتنے ہی ممالک ہیں جو غلامی کی زندگی میں بسر کررہے ہیں اوراپنے مسلمانوں کے وطن کو کفار کے تسلط سے آزاد نہیں کروا سکے ۔مسلمان اخلاقی ، سفارتی ، حربی اصلاحات ہونے کے باوجود ناکام ہوچکاہے اورکفار نے ایسی چالیں چلی ہیں کہ مسلمان آپس میں دست وگربیان ہوئے ہیں مسلمانوں پر کبھی روس آچڑھتاہے اور اس کے تسلط سے ملک کو آزا کرانے کے مسلمانو ں کو مجاہدین کے لقب سے نوازتاہے جب روس کا تسلط ختم ہوتا ہے تو پھر اسے دہشت گرد قراردے کر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے میں اہم کردار ادا کررہاہے اوراب مسلمانوں کو دہشت گردی کی جنگ میں جھونک دیا جس سے مسلمانوں کے ممالک اقتصادی ،معاشی طورپر ختم ہورہے ہیں،افغانستان ، کشمیر ، عراق،چچینا،بوسینااور فلسطین کفارکے قبضہ میں ہیںجبکہ مسلمان اپنے مقدس مقامات کو کفار کے قبضہ سے آزاد نہیں کروا سکے آپ یہ ہی پڑھ لیںکہ یہ بات کس قدر حیرت انگیز ہے کہ ایسا ملک جو چند یہودیوں کے ذہنوں اور ان کی مذہبی کتب تک محدود تھا اسرائیل کی شکل میں62 برسوں سے دنیا کی ایک زندہ حقیقت بنا ہوا ہے جب کہ فلسطین جو ہزار برسوں سے کرۂ ارض پر موجود تھا، چھ دہائیوں سے اس کے خواہاں اس ملک کا وجود منوانے کے لئے اسی سرزمین پر جدوجہد میں مصروف ہیں۔ جہاں آج اسرائیل قائم ہے۔ یہ ملک برطانیہ کے سیاست داں بالفور کے منصوبہ کے تحت نومبر 47ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کی منظوری سے قائم ہوا تھا، جس میں واضح طو رپر اس اسرائیلی ریاست کے حدود کا تعین تھا اور اس کے مطابق اس نوزائیدہ ملک کامجموعی رقبہ 14ہزار کلومیٹر سے زیادہ نہ تھا لیکن اپنے سرپرستوں کی شہ پر یہودیوں نے اس طرح کی کسی بھی حد بندی سے انکار کردیا اور وقت کے ساتھ اس ملک کی سرحدیں بڑھتے بڑھتے 74ہزار کلومیٹر تک جو منظور شدہ رقبہ کا پانچ گنا ہے پھیل گئیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی اسی قرار داد کے مطابق جس فلسطینی ریاست کا وجود عمل میں آنا چاہئے تھا62برس کے طویل انتظار کے بعد بھی یہ کام نہ ہوا، کیونکہ عالمی صیہونی تنظیم نے مغربی طاقتوں کی حمایت کے بل بوتے پر اس میں روڑے اٹکانا شروع کردیئے ، اسی طرح لاکھوں فلسطینیوں کو مظالم کا شکار بناکر ان کے آبائی وطن سے پیچھے ڈھکیل دیاگیا اور جو وہاں باقی بچے اسرائیل کے شدید مظالم سے جوجتے رہے ہیں۔
امریکہ،برطانیہ اور دوسرے ملکوں کی طرف سے اسرائیل کی غیر معمولی مدد اس لئے کی جارہی ہے کہ عربوں کے سرپر صیہونیت کی یہ تلوار لٹکی رہے اور آس پاس کے عرب ممالک کبھی سر نہ اٹھاسکیں، اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لئے آج تک اسرائیل کو ہر جائز وناجائز امداد فراہم کی جاتی رہی اور اس کی ہر جارحیت کو شیر مادر سمجھ کر خاموشی سے پی لیا گیا، اسی ناانصافی بلکہ ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں اسرائیلی سرحدوں کا آج تک بین الاقوامی طور پر تعین نہ ہوسکا، اس کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان کا تو کہنا تھا کہ جہاں جہاں اسرائیلی کی فوجیں موجود ہیں وہ سب اسرائیل کے علاقے ہیں بعد میں بھی اسرائیل کا یہی موقف رہا کہ مشرقی یروشلم ، غزہ کی پٹی اور جولان کی پہاڑیاں اس کی سرحدوں میں شامل ہیں جنہیں کوئی نہیں چھین سکتا۔حالانکہ ان تمام علاقوں پر اسرائیل نے ۱۹۶۷ء میں قبضہ کیا تھا اور اسی سال اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد 243کے ذریعہ یہ تاکید کردی تھی کہ جنگ میں ہتھیائے علاقے اسرائیل واپس کردے اور اس کے بدلہ میں عربوں کی طرف سے اس کو محفوظ ومنظور سرحدوں کی گارنٹی دی جائے یہ قرار داد پہلے اسرائیل کی طرح فلسطینی عربوں کو بھی قبول نہ تھی کیونکہ اس کے ماننے کے نتیجہ میں فلسطینیوں کو پہلے اسرائیل کا وجود تسلیم پڑتا جو انہیں منظور نہ تھا لیکن اپنے وطن فلسطین میں اسرائیل کے بدترین مظالم کے بعد اردن میں بھی جن فلسطینیوں کو پناہ نہ ملی اور جو خاک وخون کا سمندر پار کر کے لبنان میں پناہ گزیں ہوئے تو وہاں سے بھی شام نے انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا اپنے اور پرایوں کی دوستی و دشمنی کا مزہ چکھ کر بے خانما بردار فلسطینیوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ مذکورہ قرار داد کو تسلیم کرلینا ہی ان کے مسائل کا حل ہے۔اس واقعہ کو طویل عرصہ گذر چکا ہے فلسطین کی مجوزہ ریاست کے نام سے غزہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارہ کا کچھ حصہ یاسر عرفات کی عبوری حکومت کے سپرد کیا گیا تھا لیکن نہ تو بیت المقدس فلسطین کے حوالہ کرنے کے لئے اسرائیل تیار ہوا اور نہ ان مسائل کو سلجھانا چاہتا ہے جو نئی آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں کوہِ گراں بنے ہوئے ہیں۔حالانکہ اس عرصہ میں امریکہ کی زیر نگرانی فلسطین محاذ آزادی اور اسرائیل کی مختلف حکومتوں کے درمیان گفتگو کے کئی دور چل چکے ہیں مگر نہ شام کے ساتھ جولان کی پہاڑیوں سے اسرائیلی افواج کی واپسی ہوسکی ہے اور نہ ہی غرب اردن سے ہٹنے کے وعدہ پر اسرائیل نے اب تک عمل کیا ہے حالانکہ اس کے لئے مقررہ مدت سے۷ سال زیادہ ہوچکے ہیں۔ اس عرصہ میں سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ اسرائیل اپنی اعلان شدہ پالیسی یعنی امن وامان اور محفوظ سرحدوں کی گارنٹی کے باوجود 1962ء کی سرحد پر واپسی کے لئے آمادہ نہیں اور بیت المقدس پر اپنے دارالحکومت کی صورت میں قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ حالانکہ پی ایل او کی یہ نہایت مناسب ومعقول تجویز تھی کہ بیت المقدس کو کھلا شہر قرار دے دیا جائے اور اسرائیل بھی وہاں سے اپنا دارالحکومت کہیں اور لے جائے۔
مرحوم یاسر عرفات مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کی راجدھانی بنانا چاہتے تھے جہاں سے مسجد اقصیٰ کے گنبد صاف نظر آتے ہیں مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل کے حکمراں اپنے رویہ میں بنیادی تبدیلی لائیں اس عرصہ میں اسرائیلی حکمرانوں نے نہتے فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں یہودی فوجی نہ صرف فلسطینیوں کو قتل کرتے رہے بلکہ ان کے ساتھ جو بدترین سلوک اپنایا گیا ،، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق وہ نہ صرف حقوقِ انسانی کی پامالی ہے بلکہ جنگی جرائم کے ذیل میں آتا ہے۔ اس رپورٹ پر حقوق انسانی کے خود ساختہ علمبردار امریکہ کی خاموشی بھی حیرت انگیز نہیں کیونکہ اسرائیل کے تعلق سے اس نے ہر معاملہ کو جانچنے کے لئے ایک الگ پیمانہ بنالیا ہے۔ امریکہ کے اس جانبدارانہ رویہ بلکہ اندھی اسرائیل نوازی پر دنیا میں اس کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ عالم اسلام نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک جس کھلی منافقت کی راہ پرگامزن ہیں وہ جاری رہے گی، گفتگو کے دور چلتے رہیں اور ان کا نتیجہ اسرائیل کے حق میں برآمد ہوتا رہے گا، اقوام عالم بھی امن کے غارت گروں کی اس بازی گری کو اب سمجھنے لگی ہے اور اقوام متحدہ کی لاچاری بھی سب پر ظاہر ہے، اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ملک عراق کو پہلے ہی کچلا جاچکا ہے، اب ایران کو نشانہ بنانے کی تیاری ہے، یہ کارروائیاں محض اسلئے ہورہی ہیں کہ اسرائیل کا ہر خطرے سے تحفظ کیا جاسکے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter