سعودی عرب کے مغربی صوبے جس میں جدہ ، مکہ ، الطائف، ینبع ،مدینہ المنورہ جیسے نامور شہر آتے ہیں میں کرکٹ کے فروغ کیلئے بے شمار کام ہورہا ہے ، ویسٹرن صوبے اور سعودی کرکٹ سینٹر کے افتخار کی کاوشوں سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی کرکٹ ایسوسی ایشن نے لبیک کہا اور مغربی صوبے کی کرکٹ ایسوسی ایشن سے مقابلہ کے دو کرکٹ میچ کھیلے۔
ائرپورٹ پر ڈبلیو پی سی اے کے سینئر نائب صدر چودھری ذوالفقار، ایگزیکٹو سیکرٹری خورشید ظفر، رابطہ آفیسر عمران، شفیق اور دیگر عہدیداران نے ان کا استقبال کیا۔
2 میچز کی سیریز کا پہلا میچ اسکان اسپورٹس کمپلیکس کے گراو¿نڈ نمبر 1پر صبح 9 بجے شروع ہوا۔ ای پی سی اے کے کپتان رضا عباس نے ٹاس جیت کر خود کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اوپنرز خاور سہیل اور کاشف نے صرف 5 اوورز میں 55 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی۔ اس موقع پر خاور سہیل 28رنز بنا کر کاشف کی بال پر آو¿ٹ ہوگئے۔دوسری طرف کاشف 9چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 75رنز کی عمدہ اننگ کھیل کر رن آو¿ٹ ہوگئے۔اسکے بعد رضوان نے قیوم اور محسن نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب 52رنز (5x4)اور 35رنز (6x4)کی اننگز کھیلی۔اننگ کے درمیان میں ڈبلیو پی سی اے کے بالرز نے ای پی سی اے پر دباو¿ بڑھاتے ہوئے یکے بعد دیگر ے 5وکٹیں گرادیں لیکن آٹھویں وکٹ کی شراکت میں عدنان اور زاہد نے 75رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور مقررہ 40اوورز کے خاتمے پر 326رنز تک پہنچا دیا۔ جس میں عدنان نے 4چوکوں کی مدد سے 31رنز ناٹ آو¿ٹ اور زاہد نے 3چھکوں کی مدد سے 40رنز رنز کے بنائے۔
ڈبلیو پی سی اے کی جانب سے منجنیت نے44 رنز کے عوض 2، حسین بھٹی نے 57 رنز کے عوض 2 جبکہ شفیق اور کاشف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
ڈبلیو پی سی اے نے 326رنز کا ہدف 36اوورز میں5وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے سیریز کے پہلے میچ میں کامیابی حاصل کرلی۔
کپتان شفیق کے جلد آو¿ٹ ہونے کے بعد کاشف اقبال اور عبداللہ عیسیٰ نے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے بالترتیب 41رنز اور 69بنائے۔اسکے بعد راشد ملک نے 36رنز کا اضافہ کیا۔لیکن ڈبلیو پی سی اے کی فتح میں اہم کردار شہباز اور نعیم شاہ کا رہا دونوں نے 5ویں وکٹ کی شراکت میں 149رنز کی میچ وننگ پارٹنر شپ قائم کی۔جس میں شہباز نے ناقابلِ شکست 93رنز 7چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے جبکہ نعیم شاہ نے ناقابلِ شکست 50رنز 4چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنائے۔
ای پی سی اے کی جانب سے رضوان قیوم نے 33رنز کے عوض2جبکہ ظفر،خاور سہیلاور افتخور نے ایک وکٹ حاصل کی۔
میچ میں امپائرنگ کے فرائض ڈبلیو پی سی اے کے خلیل قاضی اور ای اپی سی اے کے قاسم نے انجام دیے۔
جمعرات کی رات ڈبلیو پی سی اے کی جانب سے مہمان ٹیم کے عزاز میں جدہ کی مقامی ہوٹل میں عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔جس میں کھلاڑیوں کے علاوہ ای اپی سی اے کے جنرل سیکرٹری ابوالحسن، ڈبلیو پی سی اے کے سینئر نائب صدر چودھری ذوالفقار اور دیگر کمیٹی اراکین سعودی کرکٹ سینٹر کے جناب ندیم ندوی افتخار اور صادق الاسلام،ڈبلیو پی سی اے ٹیم کے مینجر سمیر ندال خان اور صحافی موجود تھے۔ نظامت کے فرائض شاہ سہیل نے انجام دئیے۔
اپنے خطاب میں چودھری ذوالفقار نے ای اپ سی اے کی ایگزیکٹیو کمیٹی اور افتخار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ای پی سی اے کے اس دورے کو ایک سنگ میل قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے انٹر سٹی مقابلوں سے کرکٹ کا ذوق و شوق بڑھتاہے اور کرکٹ کی ترقی کے لیئے اس قسم کے مقابلوں کا مستقبل بنیادوں پر اہتمام ہوتے رہنا چاہیئے اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایس سی سی اس سلسلے میں ایسوسی ایشنز کی بھرپور نمائندگی اور تعاون کرتی رہے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے صحافی برادری سے گزارش کرتے ہوئے کہاکہ وہ ڈبلیو پی سی اے اور دوسری وہ ٹیمیں جن کا الحاق ایس سی سی سے ہے ان کو اپنی نیوز میں زیادہ مناسب اور بہتر کوریج مہیا کریں گے۔
ای پی سی اے کے جنرل سیکٹری نوالحسن نے بھی اس قسم کے مقابلوں کی اہمیت پر زور دیا اور ای پی سی اے کے کردار پر روشنی ڈالی بعد میں انہوں نے ڈبلیو پی سی اے کو جمعرات کے میچ میں کامیابی پر مبارک باد دی اور اس کے علاوہ ڈبلیو پی سی اےک کی ایگزیکٹو کمیٹی اور ایس سی سی کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی کاوشوں سے ان میچز کا انعقاد ممکن ہو سکا۔
آخر میں ایس سی سی کے چیف ایگزیکٹو جناب ندیم ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس سی سی کے اہم اہداف6 گراسی اور ٹرف وکٹ کے گراو¿نڈ اور تمام سہولیات سے موجود کرکٹ اکیڈمیز کا قیام ہے اس سلسلے میں جہاں جہاں گراو¿نڈ کی دستیابی ممکن ہو سکی ایس سی سی اپنا کردار نبھانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے سعودی عربیہ میں کرکٹ کی ترقی کے لیئے تمام ایسوسی ایشنز کے کردار کو سراہتے ہوئے انکو اپنی بھرپور معاونت کا یقین دلایا۔
جمہ 15جنوری کو انٹر سٹی میچز سیریز کا دوسرا میچ کھلاگیا۔ اس میچ میں ای پی سی اے کے کپتان طلال نے ٹاس جیت کر ڈبلیو پی سی اے کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ شفیق اور حماد یٰسین نے اننگ کا آغاز کیا ۔ڈبلیو پی سی اے کی پہلی وکٹ 52رنز پر گری جب حماد اور یٰسین 20رنز بناکر آو¿ٹ ہوئے۔ اس کے بعد ای پی سی اے کے بالرزمیچ پر چھا گئے اور انہوں نے ڈبلیو پی سی اے کی بیٹینگ لائن کو سنبھلنے نہ دیا اور انکی وکٹیں یکے دیگر گرتی رہیں صرف کپتان شفیق 9 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 102 رنز کی اننگ کھیل کر اپنی ٹیم کا اسکور مقررہ 40 اوورز میں 265 رنز تک لے جانے میں کامیاب ہو سکے۔ ان کے علاوہ کچھ قابلِ ذکر کارکردگی وجاہت، ظہیر، حسین بھٹی اور حماد کی رہی۔ جنہوں نے بالترتیب 33 رنز، 24 رنز، 20رنز اور رنز بنائے۔
ای پی سی اے کے رضوان قیوم نے عمدہ بالنگ کرتے ہوئے 57رنز کے عوض 4 وکٹیں اس کے علاوہ خاور سہیل نے3 رنز کے عوض 2 زاہد نے 33 رنز کے عوض 2 اور بلال نے ایک وکٹ حاصل کی۔
ای پی سی اے کی بھی شروعات زیادہ اچھی نہ رہی خاور سہیل جب ای پی سی اے کا اسکور 37رنز تھا رن آوٹ ہوئے اسکے بعد 126کے اسکور پر انکی 3وکٹیں کرگئیں لیکن اس موقع پر کپتان طلال اور رضوان قیوم نے ذمہ دارانہ انداز اختیار کرتے ہوئے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 130رنز بناتے ہوئے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ طلال نے 13چوکوں کی مدد سے 104رنز جبکہ رضوان قیوم نے 5چوکوں کی مدد سے 58رنز بنائے اس کے علاوہ سہراب نے 38 اور منصور نے 29 رنز بنائے۔
ڈبلیو پی سی اے کی جانب سے فائق نے 22رنز کے عوض 2جبکہ فہیم اور حماد نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ امپائرنگ کے فرائض سہیل شاہ اور صابر شاہجہاں نے ادا کیئے۔ اس طرح اس سیریز کے پہلے میچ میں ڈبلیو پی سی اے نے 5وکٹوں سے اور دوسرے میچ میں ای پی سی اے نے 6وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
آخر میں ڈبلیو پی سی اے کے مہمانِ جناب افتحار ،فرحت محمود،سجاد نواب، اور ڈبلیو پی سی اے کے چودھری ذوالفقار نے ای پی سی اے کے کپتان طلال اقبال کو ونرز ٹرافی اور ڈبلیو پی سی اے کے کپتان شفیق کو رنرز اپ ٹرافی جبکہ شفیق اور رضوان قیوم کو مین آف دی میچ ٹرافی جبکہ ایس سی سی کے افتخار کی جانب سے مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں اور عہدے داران کو انفرادی گفٹ پیش کئے گئے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو پی سی اے اور ای پی سی اے نے ایک دوسرے کو سوینیئر پیش کئے۔ آخر میں ای پی سی اے کے نائب صدر جناب فرحت محمود نے ڈبلیو پی سی اے اور ایس سی سی کا شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭
Post New Comment