سعودی عرب سے متاثرین سیلاب کیلئے امداد کی روانگی

ـ 20 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

جدہ کی ڈائری ۔۔۔ امیر محمد خان
وطن عزیز اور اسکے باسی ملکی تاریخ کی جس جان لیوا پریشانی سے گزررہے ہیں ، اسکی سنگینی کی گواہی اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے دے رہے ہیں۔ مگر افسوس اس بات کا ہے ساٹھ سال سے ملک کو لوٹ کر بیرون ملک بنکوں میں ناجائز و جائز دولت رکھنے والے ، جو حکومت کرنے تو پاکستان آتے ہیں اور یہاں سے دولت کما کر ملک سے باہر جمع کرتے ہیں۔ر موجودہ تباہ کاریوں کو دیکھ کر لگتا ہے ، گاﺅں ، دیہاتوں میں انہوں صرف ووٹ ہی لئے ہیں وہاں زمینوں کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر قبضہ کیا ہے وہاں کے باسیوں کو غلام بنا کر اپنا ” کمی “ اور زمین پر کام کرنے والے معصوم ہاری سے ، فصل اگانے والی مشین کا ہی کام لیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ دوہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے ہیں مگر یہ اندازہ ابھی نامکمل ہے جانے کتنے انسان اور کتنے جانور مردہ پڑے ہیں ، جنکی بدبو سے پھیلنے والی بیماریوں کا علاج بھی ایک اہم اور بڑا کام ہوگا، نہ جانے کتنے عرصے تک اس علاقے کا پانی ناقابل استعمال ہوگا ؟ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر فوری امداد نہ ملی تو سیلا ب سے متاثرہ افراد کی بھوک اور بیماریوں سے بے شمار اموات واقع ہونگی، کہیں کہیں دبے دبے لفظوں میں کہا جارہا ہے کہ عوام بے حس ہیں، اقوام عالم بے حس ہیں امداد نہیں دے رہے وغیرہ وغیرہ۔
جبکہ صورتحالی یہ ہے کہ عوام اور اقوام عالم کا اعتماد ان لوگوں پر نہیںہے جو اس ملک کو گزشتہ ساٹھ سالوں سے نام بدل بدل کر لوٹ رہے ہیں۔ جہاں امداد کیلئے اربوں روپے کی ضرورت ہے وہاں وزیر اعظم کے امدادی فنڈز میں ابتدائی دنوں میں صرف چند لاکھ روپے ہی جمع ہوسکے متاثرےن ان کی املاک اور فصلوں کی تباہی ، چھوٹی صنعتوں کی تباہی سے مہنگائی کا طوفان آسکتا ہے آئی ایم ایف نے عندےہ دیا ہے کہ ’ سیلاب سے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان ہوسکتا ہے “ وغیرہ وغیرہ ۔2005ءکے زلزلے اور حالیہ سیلاب کا مقابلہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ زلزلے سے تیس ہزار مربع میل کا علاقہ متاثر ہوا تھا جبکہ اب سیلاب سے پنجاب اورسرحد کا ایک لاکھ بتیس ہزار مربع میل کا علاقہ متاثر ہوا ہے ، جبکہ سندھ میں تباہ کاریاں ابھی جاری ہیں۔ سیلاب کو دو ہفتے ہوچکے ہیں ابھی تک کئی علاقوں میں متاثر ہ خاندانوں تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی گو کہ وقت اب بہت گزر چکاہے مگر حکومت شائد نیک نیتی سے عالمی برادری سے مدد کی طلب گار ہے چونکہ اس مثالی تباہ کاری کا مقابلہ کرنا تنہا حکومت کے بس کا روگ نہیں۔ یہ گناہوں کی سزا بھی ہے ، اللہ تعالی اس آزمائش سے ہمیں مقابلہ کرنے کی ہمت دے ، مگر حکومت کو کوئی ایسا طریقہ فوری طور پر اختیار کرنا ہوگا کہ اپنے کرپٹ ہونے کے تاثر کو دور کرے ، کیا عذاب نازل نہیں ہوگا جہاں زکوٰاة فنڈز کھا لیا جاتا ہو، جہاں ایسے وقت میں بھی جب ملک اور عوام تباہ ہورہے ہیں،وڈیرے اپنی اراضی بچانے کیلے نہروں میں شگاف کرکے پانی کا رخ موڑدیتے ہیں، غریب ووٹرز کے گھر تباہ کردئے جاتے ہیں۔ جیکب آباد امریکی فوجی اڈہ بچانے کیلئے چند سکے لیکر پانی کا بھاﺅ موڑ دیاان بے یا و مددگار کسانوں ، غریبوں کی طرف جو پہلے ہی بارش سے تباہ شدہ گھروں کو سمیٹ رہے تھے ، اب ایسے میں حکومت کو کوئی امداد نہ دے تو وہ غلط نہیں ہے ، عوام کو اٹھنا ہوگا ، اپنے ملک کو ، اہل وطن کو بچانے کیلئے۔ پاکستانی قوم ایک بہادر قوم ہے جب وہ متحد ہوتی ہے تو مشکل ترین چیزوں کا مقابلہ کرتی ہے ، تمام تر بد انتظامیوں کے بعد بھی عوامی فرشتے ہیں جو دن رات وہاں محنت کررہے ہیں اور پریشان اہل وطن کے شانہ بشانہ موجود ہیں ، یہ زندگی کی پہچان ہے۔ حکومتی ، نام نہاد حزب اختلاف کو چاہئے کہ وہ عوام کے پیچھے کھڑے ہوں، عوام کو رہنمائی کرنے دیں ، جب انکی عزت بحال ہوجائے تو عوام خود انہیں آگے لے آئینگے ، اسوقت دنیا بھر میں ہمارا سب سے بہترین دوست سعودی عرب ، یہاں سے خادم الحرمین الشریفین کی ہدایت پر فوری طور ضروری اشیاءسے بھرے جہاز پاکستان پہنچنا شروع ہوگئے ، سعودی عرب وہ مثالی دوست ہے ، جو خلوص دل کے ساتھ پاکستانی بھائےوں کی مدد کرتا ہے ، اپنے مسلمان بھائیوںکی اس رمضان المبارک میں تکالیف دور کرنے کیلئے خادم الحرمین الشریفین نے سعودی حکام کو ہداےت جاری کی ہے کہ پاکستان کے متاثرین کی توجہ کے ساتھ مدد کی جائے۔ پاکستان کے عوام جہاں کہیںبھی ہیں خصوصی طور پر سعود ی عرب کے خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ، ولی عہد، اور دیگر شاہی خاندان ، حکومتی عہدیداروں کیلئے پاکستان کی بے لوث خدمت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شکر گزار ہیں اور ان کی طویل عمری کیلئے دعا گو ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں اور حکومت کا ہاتھ بٹانے کیلئے یہاں پاکستان قونصیلٹ اور سفارت خانے نے آگاہی پروگرام شروع کیا ہے جہاں ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ وزیر اعظم فنڈ میں پیسے ارسال کریں، اسکے علاوہ یہاں موجود پاکستانی جو شائد حکومت سے مطمئن نہ ہوں وہ اپنے طور پر بڑے پیمانے پر ضروری سامان من پسند این جی اوز کو دے رہے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح جدہ میں پاکستان انٹرنیشنل سکول انگریزی سیکشن کی پرنسپل محترمہ سحر کامران نے از خود سکول میں امدادی کیمپ کے قیام کا اعلان کیا ہے اور کیش رقم بھی جمع کی ہے ، سکول کے سٹاف کی جانب دو دن کی تنخواہ عطےہ کرکے پہلے ہی دن انہوںنے ساٹھ ہزار ریال سے زائد فنڈ جمع کیا انہوںنے بتایا کہ وہ اپنے طور پر سکول کی جانب سے یہ فنڈ وزیر اعظم کے امدادی فنڈ میں پہنچائیں گی ، اسی طرح امدادی سامان پی آئی اے اور سعودی ائرلائینز کے ذریعے ضرورت مندوںتک پہنچائیں گی، اس سلسلے میں کیمپ میں اسکول اسٹاف کا کوئی بھی رکن چوبیس گھنٹے موجود رہے گا جو کیمپ میں آنے والے سامان کی باقاعدہ فہرست بنائے گا۔
میری قارئین سے دردمندانہ اپیل ہے کہ بھول جائیں کہ کون حکومت ہے ؟کون حزب اختلاف ہے ؟ کون وزیر ہے ؟ کس نے کب اور کس قدر نقصان پہنچاےا ؟ بس مدد کریں کہ یہ مدد ہے اپنے بہن ، بھائی، ماں، باپ ، بچوں کی اپنے ملک کی بقاءکیلئے ۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter