جدہ کی ڈائری ۔۔۔ امیر محمد خان

ـ 2 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

قائداعظمؒ کے اصولوں پر عملدرآمد میں ہی ہماری بقاء ہے۔ قائداعظمؒ نے جس مقصد کے لئے پاکستان بنایا تھا وہ ہم حاصل نہ کر سکے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے مجلس محصورین پاکستان (PRC) کے تحت یوم قائداعظمؒ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد مہران کے وی آئی پی حال میں ہوا۔ تقریب کی صدارت تحریک پاکستان میں قائداعظمؒ کے ساتھی انجینئر محمد عبدالرفیع نے کرتے ہوئے کہاکہ خدا نے محمد علی جناحؒ کو جہاں عظیم قائدانہ صلاحیت دی ساتھ ہی بصیرت، عزم و ہمت، ایمانداری، صاف گوئی اورایمانی قوت سے بھی نوازا تھا۔ انہوں نے کہاکہ قائداعظمؒ نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کو بہت کم وقت میں دو قومی نظریہ پر آمادہ کر لیا بلکہ قلیل مدت میں حصول پاکستان کو حقیقت میں ڈھال دیا جسے ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔ محمد عبدالرفیع نے کہا کہ آج بھی قائداعظمؒ کے اصولوں پر عمل کر کے حصول پاکستان کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ مہمان خصوصی انجینئر عزیز احمد نے تقریب کے انعقاد پر PRC کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظمؒ نے جس مقصد کے لئے پاکستان بنایا تھا وہ ہم حاصل نہ کر سکے بلکہ ملک دولخت ہوگیا اور حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے گئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محصورین کو جلد وطن لایا جائے۔ سماجی رہنما گلاب خان نے قائداعظمؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ برصغیر میں ہندو اور انگریز نے کبھی بھی مسلمانوں کو ان کے حقوق نہ دئیے اور اگر پاکستان نہ بنتا تو مسلمان کی کوئی حیثیت نہ رہتی۔ انہوں نےPRC کے مشن، محصورین کی واپسی اور الحاق کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے کی تعریف کرتے ہوئے حکومت سے محصورین کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ مسلم ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ابو فرحان صدیقی نے کہاکہ قائداعظمؒ کے مشن کے خلاف کام کرنے کی وجہ سے پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور لاکھوں محب وطن کیمپوں میں غیر انسانی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محصورین کی امداد کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ سماجی رہنما محمد امانت اللہ نے کہا کہ ہم نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کیا، سودی نظام ختم نہ کیا اور اسلام کے بنیادی ارکان کی پاسداری نہ کی تو ملک غیر یقینی کا شکار ہو گیا۔ معروف دانش ور اور وکیل شمس الدین الطاف نے موجودہ حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ قائداعظمؒ کے مشن کو اداروں اور مدارس میں مروج کریں۔ انہوںنے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کی بجائے عوامی جمہوریہ کرنے کے محرکات کی مذمت کی۔ معروف سعودی صحافی سمیرا عزیز نے اپنے پیغام میں کہاکہ ہمیں اس نازکے مرحلے پر جناحؒ جیسے قائد کی ضرورت ہے جو ان کے اصول ایمان اتحاد اور تنظیم کو نافذ کر سکے۔ ہم PRC کو مبارکباد یتے ہیں جس نے قائداعظمؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریب کا اہتمام کیا۔ آج قائدؒ کے اصولوں کو اپنا کر ہی پاکستان کی یکجہتی قائم رکھ سکتے ہیں۔ PRC کے کنوینر احسان الحق نے کہا کہ قائداعظمؒ نے علامہ اقبالؒ کی فکر کو پاکستان کی شکل میں حقیقت کر دکھایا۔ آج ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ ہم قائدؒ کے اصولوں پر انفرادی اور اجتماعی معاملات پر عمل کریں گے تب ہی مقصدِ پاکستان کو حاصل کر سکیں گے۔ اس موقع پر چیف جسٹس افتخار چودھری سے مرحوم ایم ڈی طاہر کی محصورین کے بارے میں پٹیشن پر ایکشن لینے، حکومت سے رابطہ ٹرسٹ بحال کرنے، محصورین کی منتقلی و آبادکاری اپنی مدد آپ کے تحت کرنے اور کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری پر قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ معروف شعراء عبدالقیوم واثق، زمرد خان سیفی اور گل انور نے قائداعظمؒ کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سید مسرت خلیل نے ادا کئے جبکہ تلاوت قرآن قاری عبدالمجید نے کی ۔ نعت رسولؐ شیر افضل نے پیش کی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter