مکتوب دوبئی ۔۔۔ طاہر منیر طاہر
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 134ویں اور قائد ثانی میاں محمد نواز شریف کی 61ویں سالگرہ پاکستان مسلم لیگ ن متحدہ عرب کے زیراہتمام مشترکہ طور پر منائی گئی جس کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ ن گلف ریجن کے صدر چودھری نورالحسن تنویر نے اپنی رہائش گاہ پر کیا تھا۔
سالگرہ کی اس مشترکہ تقریب میں ایم پی اے اعجاز احمد خان ایڈووکیٹ مہمان خصوصی تھے جبکہ مسلم لیگ ن کی مقامی تنظیموں کے عہدیداران عبدالوحید پال، آزاد علی تبسم، آفتاب احمد خان، ملک دوست محمد، چودھری خالد بشیر، شیخ محمد عارف، غلام مصطفی مغل، ایم اے صوفی اور ڈاکٹر محبوب کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی دبئی کے چودھری محمد شکیل، چودھری محمد منیر، چودھری شاہد جمیل، عادل خان اور خالد جٹ کے علاوہ متعدد لوگوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر چوھری نورالحسن تنویر، اعجاز احمد خان، عبدالوحید پال، شیخ محمد عارف اور غلام مصطفی مغل نے اظہار رائے کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناحؒ برصغیر کے عظیم سیاسی لیڈر تھے آپ مدبرانہ اور مفکرانہ سوچ رکھتے تھے۔ آپ کی علمی اور سیاسی بصیرت کے سب معترف تھے۔ آپ نے جس طرح حصول پاکستان کیلئے کوششیں کیں وہ ایک عظیم کام تھا۔ قائداعظمؒ کی دن رات کوششوں کے نتیجہ میں پاکستان کا حصول ممکن ہوا۔ مسلمانوں کے رہنے کیلئے اس خطہ کا حصول جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا کر مسلمانوں کو ایک عظیم اور آزادی سے رہنے والا پاکستان دیا۔ حصول پاکستان سے قبل مسلمانوں کی حالت ہندوستان میں ابتر تھی ان کے ساتھ اقلیت کا سلوک کیا جاتا تھا جبکہ ہندو ان کے خلاف ظلم بھی روا رکھتے تھے۔ مسلمانوں کی آزادی سے نقل و حمل پر پابندی تھی جبکہ آزاد پاکستان کا قیام ایک نعمت سے کم نہ تھا جس پر ہم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے جس قدر بھی احسان مند ہوں وہ کم ہے۔ قائداعظمؒ جس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔ افسوس ہے کہ 63 سال گزرنے کے باوجود ہم پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے خوابوں کی تعمیر نہیں بنا سکے۔ اس پر ہم قائد کی روح سے شرمندہ ہیں اب قائداعظم محمد علی جناحؒ کی صورت میں ہیں قائد ثانی محمد نواز شریف کی شخصیت ملی ہے جو پاکستان اور پاکستان کے عوام کے ساتھ مخلص ہے۔ قائد ثانی محمد نواز شریف صحیح معنوں میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے کی تعبیر ہیں۔ محمد نواز شریف پاکستان کو بالکل ویسا ہی دیکھنا اور نیا نام چاہتے ہیں جس طرح قائداعظم محمد علی جناحؒ چاہتے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور قائد ثانی میاں محمد نواز شریف کی ایک ہی دن یعنی 25 دسمبر کے دن پیدائش بھی ایک معجزہ ہے اور میاں محمد نواز شریف کی قائداعظم محمد علی جناحؒ سے انسیت ظاہر کرتی ہے۔ محمد نواز شریف کو دو بار حکومت میں آکر عوام کی خدمت اور قائداعظم کے خوابوں کو تعبیر میں بدلنے کا موقع ملا ہے لیکن بعض نادیدہ قوتوں نے دونوں بار ان کی حکومتوں کو ختم کر کے قائداعظمؒ کے خواب تہہ و بالا کر دیئے جس پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے متذکرہ رہنمائوں نے سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ملک کی موجودہ حالات سب کے سامنے ہے، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، خودکشیاں، دھماکے، امن عامہ کی خرابی، انصاف کی کمی، ظلم و ستم اور غربت کا دور دورہ ہے۔ پاکستان کے عوام مختلف قسم کے مسائل میں جکڑے ہوئے ہیں گرمیوں میں بجلی کی کمی سردیوں میں گیس کی کمی اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کا مارکیٹ سے غائب ہو جانا عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ قوم میں دن بدن مایوسی پھیل رہی ہے۔ ایسے میں اگر تمام مسائل سے نجات دلانے والے کا تصور اگر ذہن میں آتپا یہ تو وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف ہیں۔ محمد نواز شریف کے سابقہ دونوں ادوار حکومت میں پاکستان نے جس قدر ترقی کی وہ قابل مثال ہے۔ نواز شریف کے دور میں تجارت کو فروغ ملا، ملکی معیشت مضبوط ہوئی، بیرون ممالک میں پاکستان کی ساکھ بحال ہوئی۔ مہنگائی پر قابو پایا گیا۔ لوگوں کو انصاف ان کی دہلیز تک پہنچایا گیا، موٹروے بنی، نئے ائرپورٹ بنے، اندرون ملک انڈسٹریز کا جال بچھایا گیا دوردراز کے پسماندہ دیہات کی ترقی کیلئے کام کیا گیا۔ غیرضیکہ ہر شعبہ میں تعمیروترقی کی راہیں کھلیں جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے پاکستان کے عوام کی نظر صرف محمد نواز شریف کی طرف اٹھتی ہے اور عوام اپنے مسائل کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔
تقریب میں قائداعظم محمد علی جناحؒ اور قائد ثانی محمد نواز شریف کی سالگرہ کا کیک علیحدہ علیحدہ کاٹا گیا۔ لیگی لیڈران نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر استحکام پاکستان اور مسلم لیگ ن کی کامیابی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ آخر میں چودھری نورالحسن تنویر نے آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور تمام مہمانوں کی تواضع پُرتکلف ڈنر سے کی گئی۔
Post New Comment