مرکز پاکستان ابوظہبی کے سابق صدر‘ ممتاز ادبی سماجی شخصیت ریڈیو ابوظہبی اردو سروس کے سید اظہار حیدر نقوی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام ممتاز پاکستانی شخصیات حاجی اسحاق انصاری‘ ڈاکٹر طلعت محمود، یونس کیانی، چوہدری زمان ریحانبہ، چوہدری ارشد حسین، انیلہ کوثر، منظور حسرت نے کیا۔ تقریب کی صدارت سفیر پاکستان خورشید احمد جونیجو نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ممتاز شاعر ظہور الاسلام جاوید نے سرانجام دئیے۔ تقریب میں ہر مکتبہ فکر کے پاکستانیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد نواز چشتی نے کی۔ اظہار حیدر مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے صدر محفل خورشید احمد جونیجو نے کیا۔ اظہار حیدر نے ساری زندگی پاکستانیوں کی خدمت میں گزاری وہ پاکستان کے بارے میں مکمل انسائیکلوپیڈیا تھے وہ چاروں صوبوں کی ترجمانی اور ہردلعزیز شخصیت تھے وہ جب بھی میرے پاس آتے۔ انہوں نے کبھی اپنی ذات کے لئے کوئی کام نہیں کیا بلکہ کمیونٹی اور ویلفیئر کیلئے بات کرتے تھے۔ ہم اپنے دل و دماغ سے ان کے پیار اور محبت کو نکال نہیں سکتے وہ لوگوں کے کام کر کے خوش ہوئے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اُن کی یاد تازہ کرنے کے لئے ان کے کلام کا مجموعہ شائع کیا جائے اور ان کے نام سے ایوارڈ جاری کیا جائے گا۔ میری پوری کوشش ہوگی ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے اعلی ایوارڈ ملے۔
ڈپٹی ہیڈ آف مشن سفارت خانہ پاکستان ریاض حسن بخاری نے اظہار حیدر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ان کی پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ اٹل تھی اگر کسی پاکستانی نے وطن عزیز‘ پاکستانیوں اور تعلیم کے لئے مرحوم سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں تو سامنے آئے۔ کمیونٹی کی جانب سے مرحوم کے خدمات کے صلہ میں جو مطالبات کئے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ انہیں پورا کیا جائے اس سلسلہ میں سفارت خانہ پورا تعاون کرے گا۔
ویلفیئر کمیونٹی قونصلر ڈاکٹر شہزاد تھیم نے کہا اظہار حیدر نے تعلیم کے شعبہ میں بے انتہا خدمات کی ہیں وہ ایک ادارہ بنا کر گئے ہم ان کا خواب پورا کریں گے۔
ممتاز رائٹر محمد اکبر خان نے کہا وہ ایک ادارے کی طرح تھے ان کی حب الوطنی کسی شک سے بالاتر تھی۔ وہ سب کا محبوب پاکستانی تھا۔ وہ پاکستانیوں کو ٹاپ پر دیکھنا چاہتا تھا اسے پاکستانیوں کی خدمت کرنے کا جنون تھا۔
ممتاز شاعر یعقوب تصور نے کہا وہ ایک نادر غیر معمولی اوصاف کے مالک تھے انتہائی معروف اور کامیابیوں کے باوجود ان کے اندر اُن کے اندر ذرہ بھر غرور اور تکبر نہ تھا۔
ڈاکٹر طلعت محمود نے مجلس انتظامیہ کی طرف سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا مرحوم قدآور شخصیت، معلومات کا خزانہ اور مکمل انسان تھے اُن کی خوبیاں اور خامیاں خدمت خلق پر حاوی تھیں اُن کے خوبیوں میں خدمت خلق کا پلڑا سب سے بھاری تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر طلعت محمود نے کمیونٹی کی جانب سے مرحوم کے بھائی ڈاکٹر شکیل حیدر کو خصوصی شیلڈ پیش کی جو سفیر پاکستان خورشید احمد جونیجو نے انہیں پیش کی۔
ممتاز شاعرہ تسنیم عابدی نے کہا۔ مرحوم سے میرا تعلق ادبی حوالہ سے تھا اُن کے مشن اور خدمات کو آگے بڑھایا جائے اور ان کا کلام اشاعت کیا جائے۔ مصدق لاکھانی نے کہا اُن جیسی شخصیت کا چلے جانا عظیم المیہ ہے تعلیم اور سپورٹس کے شعبہ میں ان کی بے شمار خدمات ہیں۔ ڈاکٹر ہادی شاہد نے کہا کمیونٹی کو چاہیے کہ ان کے خدمت خلق کے کام جاری رکھے جائیں سید صغیر احمد جعفری نے کہا وہ جن قدروں کے مالک تھے بہت کم لوگ آج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سہیل خاور نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا اظہار حیدر کی زندگی کا ہر لمحہ اور مرحلہ بتاتا ہے کہ انہیں مشکل اور کٹھن کاموں سے بہت محبت رہی ہے۔ وہ جس شعبہ میں گئے وہاں نت نئے آئیڈیاز متعارف کروائے۔ وہ قائداعظم‘ علامہ اقبال اور احمد ندیم قاسمی کے شیدائی تھے۔ ابوظہبی کلچرل سنٹر‘ پاکستان کمیونٹی سکول مصفح‘ شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم‘ ضیاء صدیق فاؤنڈیشن‘ اسلامک مشن ہسپتال‘ ریڈیو اردو سروس، بزم ادب الامارات اور کئی اداروں کے قیام میں بھرپور رول ادا کیا وہ صحت کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں کے مشورے کو نظرانداز کرتے رہے اور پاکستانیوں کی دن رات خدمت کرتے رہے مرحوم دوسروں کے لئے جیا اور دوسروں کے لئے مرا۔ اس شخص کے لئے دعاؤں میں کمی نہ آنے دیں۔
عرض محمد شیخ نے کہا مرحوم میرا بچپن کا دوست تھا وہ نہ صرف پاکستانی بلکہ تمام قوموں کے مدد مانگتا تھا ان جیسے حساس اور انسانی جذبات سے مالا مال انسان بہت کم ہوتے ہیں۔
میاں منیر نے کہا وہ تعلیم کا فروغ چاہتے تھے ان کی بدولت صحراہیں اردو کا بول بالا تھا وہ بے مثل انسان تھے۔
امامت نقوی نے کہا وہ مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے ان سے جب بھی ملاقات ہوتی تو ان کا ایک نیا باب سامنے آتا تھا جس باب نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ خدمت خلق کا جذبہ تھا، اظہار حیدر نے زندگی دوسروں کے لئے گزاری۔ منظور حسرت نے کہا اُن کے چلے جانے سے اردو ادب اور کمیونٹی کا ایک چراغ بجھ گیا وہ عزت اور مقام پیدا کرکے تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔
ڈاکٹر صباحت واسطی نے کہا وہ جب بھی ملتے نہایت خوش اسلوبی سے ملتے۔ وہ دوستوں کے دوست، ملنسار ہر دلعزیز خدا ترس اور ان گنت صفات کے مالک تھے۔
مسیحی برادری کے راہنما پیٹرجان نے کہا کہ امارات میں مسیحیوں اور دوسری قوموں کے درمیان پُل کی حیثیت رکھتے تھے ان کے کارنامے اور ادارے ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے۔
پختون راہنما نور محمد آفریدی نے کہا وہ بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے ان کا حلقہ احباب وسیع تھا ان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت تھا کہ کمیونٹی بھی ان سے بے حد پیار کرتی ہے۔
اس موقع پر ممتاز ادبی شخصیت یعقوب تصور نے ایک امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے حکومت پاکستان کے لئے یادداشت پیش کی جس پر سینکڑوں پاکستانیوں نے دستخط کئے کہ کمیونٹی کا نمائندہ اجلاس حکومت پاکستان سے بہ توسط سفارت خانہ پاکستان اپنے اس حق کو جو اس نے آج تک استعمال نہیں کیا۔ اسے استعمال کرتے ہوئے درخواست کرتا ہے کہ مرحوم اظہار حیدر نقوی نے 1971 سے 2010 تک امارات میں مقیم پاکستانیوں کی بلاتخصیص تعلیمی ادبی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی جو گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں ان صفات کے صلے میں ان کو حکومت پاکستان کے اعلی اعزاز سے بعد از مرگ نوازا جائے۔
علاوہ ازیں مزید درخواست بھی گئی کہ پاکستان کمیونٹی سکول مصفح کے ہال کے اظہار حیدر کے نام سے منسوب کیا جائے‘ جن شعبوں میں اظہار حیدر مرحوم نے خدمات سرانجام دی ہیں ان شعبوں میں طلبا و طالبات کے لئے اظہار حیدر ایوارڈ کا اجراء کیا جائے‘ ان کے کلام کا مجموعہ شائع کیا جائے‘ مینا بازار کو اظہار حیدر کے نام سے منسوب کیا جائے‘ ان کے نام سے یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔
مرحوم کے بھائی ڈاکٹر شکیل حیدر نے کہا مرحوم ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے میں ہر مشکل وقت میں ان سے مشورہ کرتا تھا میں ان کا مشن آپ سب کے ساتھ مل کر جاری رکھوں گا۔
آخر میں ڈاکٹر طلعت محمود نے سفارت خانہ اور کمیونٹی کا تقریب کے انعقاد پر حاضرین کا شکریہ ادا کیا مرحوم کے درجات بلند کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
Post New Comment